اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، انڈیکس میں 2,900 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، جہاں 100 انڈیکس میں ابتدائی اوقات کے دوران 2,900 سے زائد پوائنٹس کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
کئی روز سے جاری فروخت کے دباؤ کے بعد آج صبح 10 بج کر 40 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای انڈیکس 2,934.45 پوائنٹس یعنی 1.69 فیصد اضافے کے بعد 176,084.
یہ بھی پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟
اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں اور ریفائنریز شامل ہیں۔
حبکو، پاکستان پیٹرولیم لیمیٹڈ، پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ، او جی ڈی سی، ماری انرجیز، میزان بینک، مسلم کمرشل بینک، حبیب بینک اور پاکستان اسٹیٹ آئل سمیت انڈیکس میں زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز سبز رنگ میں ٹریڈ ہوتے رہے۔
PSX Opened Positive ????
☀️ KSE 100 opened positive by +1715.81 points this morning. Current index is at 174,866.23 points (9:45 AM) pic.twitter.com/ZQtOfhZOw5
— Investify Pakistan (@investifypk) February 18, 2026
پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ جنوری 2026 میں دوبارہ سرپلس میں آ گیا، جس کی بنیادی وجہ بیرون ملک مقیم پاکستانی کارکنوں کی جانب سے ترسیلات زر میں اضافہ تھا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق جنوری 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ 121 ملین ڈالر سرپلس رہا، جبکہ دسمبر 2025 میں 265 ملین ڈالر خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
سال بہ سال بنیاد پر بھی بیرونی کھاتوں میں بہتری دیکھنے میں آئی کیونکہ جنوری 2025 میں 393 ملین ڈالر کا خسارہ تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز یعنی منگل کو اسٹاک ایکسچینج دباؤ کا شکار رہی تھی، جہاں غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کی مسلسل فروخت کے باعث مارکیٹ میں مندی کا رجحان غالب رہا۔
بینکاری، توانائی، بجلی اور ٹیلی کام شعبوں میں کمزوری کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 1,303.52 پوائنٹس یعنی 0.75 فیصد کمی کے بعد 173,150.42 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر بدھ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی دیکھی گئی، حالانکہ عالمی منڈیوں میں مصنوعی ذہانت سے متعلق خدشات برقرار رہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس 183,000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا
تیل کی قیمتوں پر بھی دباؤ رہا کیونکہ ایران نے امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ کیا۔
جاپان کا بینچ مارک نکی 225 انڈیکس 0.93 فیصد اضافے کے بعد 57,090.14 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جبکہ آسٹریلیا کا انڈیکس 0.5 فیصد اوپر رہا۔
چین، ہانگ کانگ، سنگاپور، تائیوان اور جنوبی کوریا کی مارکیٹیں قمری سالِ نو کی تعطیلات کے باعث بند رہیں۔
ایشیا میں مثبت آغاز سے قبل منگل کو وال اسٹریٹ میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا تھا، جہاں سرمایہ کار مصنوعی ذہانت کے شعبے کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں انڈیکس 188 ہزار پوائنٹس کی سطح برقرار نہ رکھ سکا
امریکا میں رات گئے کاروبار کے دوران ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج 0.07 فیصد اضافے کے بعد 49,533.19 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ایس اینڈ پی 500 میں 0.10 فیصد اضافہ ہوا جبکہ نیسڈیک کمپوزٹ 0.14 فیصد بڑھا، ایس اینڈ پی 500 ابتدائی طور پر 0.88 فیصد نیچے آیا تھا تاہم بعد میں سنبھل کر مثبت زون میں بند ہوا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بجلی بینکاری پاکستان توانائی ٹیلی کام جاپان مصنوعی ذہانت وال اسٹریٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آسٹریلیا اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بجلی بینکاری پاکستان توانائی ٹیلی کام جاپان مصنوعی ذہانت وال اسٹریٹ
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔