WE News:
2026-06-03@00:07:16 GMT

جین زی ؛ رشتے اسکرینوں کے پیچھے چھپ گئے

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

جین زی ؛ رشتے اسکرینوں کے پیچھے چھپ گئے

آج کے پاکستانی گھر میں ایک عجیب خاموش کشمکش چل رہی ہے۔ ایک طرف والدین ہیں جو اپنی تربیت کو کامیاب سمجھتے ہیں کیونکہ انہوں نے سختی، نظم و ضبط اور ’بڑوں کی بات ماننے‘ کے اصولوں پر پرورش پائی۔

دوسری طرف آج کے بچے ہیں، جن کی دنیا موبائل اسکرین کے اندر سمٹ آئی ہے۔ یہ دو دنیائیں ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے اجنبی ہوتی جا رہی ہیں۔

ہمارے ہاں تربیت کا مطلب اکثر حکم دینا اور بچوں سے بلا چون و چرا اطاعت کروانا سمجھا جاتا ہے۔ ’ہم نے تو ایسے ہی سیکھا تھا‘ والدین کا سب سے مضبوط جملہ بن چکا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا آج کا زمانہ بھی ویسا ہی ہے؟ کیا آج کے بچے بھی وہی دنیا دیکھ رہے ہیں جو ہم نے دیکھی تھی؟ یقیناً نہیں۔

ماضی میں بچے کی دنیا گھر، محلہ اور اسکول تک محدود تھی۔ آج وہ انٹرنیٹ کے ذریعے پوری دنیا سے جڑا ہوا ہے۔ چند سیکنڈ میں وہ ایسی معلومات تک پہنچ جاتا ہے جو پہلے بڑے بڑے کتب خانوں میں بھی مشکل سے ملتی تھیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے Facebook، Instagram اور TikTok نے نوجوانوں کے سوچنے، بولنے اور خود کو دیکھنے کے انداز کو بدل دیا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ یہ پلیٹ فارمز موجود ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم بطور والدین ان کی دنیا کو سمجھے بغیر صرف ڈر کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔

ہم میں سے اکثر والدین بچوں کو موبائل یا انٹرنیٹ سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ڈیجیٹل دنیا اب بچوں کی زندگی کا مستقل حصہ بن چکی ہے۔

اسے مکمل طور پر روکنا ممکن بھی نہیں اور فائدہ مند بھی نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی ڈیجیٹل دنیا کو سمجھیں۔ وہ کن لوگوں کو فالو کرتے ہیں؟ کیا دیکھتے ہیں؟ کن باتوں سے متاثر ہوتے ہیں؟ یہ سوالات صرف نگرانی کے لیے نہیں بلکہ سمجھنے کے لیے ہونے چاہئیں۔

آج کے بچوں پر دباؤ پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ صرف اچھے نمبروں کے لیے نہیں بلکہ اچھا نظر آنے، مقبول ہونے اور دوسروں سے آگے نکلنے کے دباؤ میں بھی جیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ’کامیاب زندگیوں‘ کو دیکھ کر وہ اپنی عام سی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔

اس دباؤ کے نتیجے میں کئی بچے خاموشی سے ذہنی تناؤ اور بے چینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر World Health Organization بھی خبردار کر چکا ہے کہ نوجوانوں میں ذہنی صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں، اور ڈیجیٹل ماحول اس میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اب بھی بچوں کے جذبات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ اگر بچہ اداس ہو تو کہا جاتا ہے ’یہ کوئی مسئلہ نہیں، ہم نے بھی سب برداشت کیا ہے۔‘

اگر وہ پریشان ہو تو جواب ملتا ہے ’اتنی چھوٹی عمر میں ڈپریشن کیسا؟‘ یہی جملے بچوں کو والدین سے مزید دور کر دیتے ہیں۔ وہ پھر اپنے سوالات اور الجھنوں کے جواب انٹرنیٹ یا دوستوں میں ڈھونڈنے لگتے ہیں۔

اصل مسئلہ نسلوں کے درمیان مکالمے کی کمی ہے۔ ہم بولتے بہت ہیں، سنتے کم ہیں۔ والدین اکثر بچوں کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ حالانکہ بچوں کو نصیحت سے پہلے توجہ اور سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر بچہ محسوس کرے کہ اس کی بات سنی جا رہی ہے تو وہ آہستہ آہستہ والدین پر اعتماد کرنے لگتا ہے۔

تربیت کا مطلب صرف کنٹرول کرنا نہیں بلکہ رہنمائی کرنا ہے۔ بچے کو یہ احساس دلانا کہ وہ غلطی کرے تو والدین اس کے دشمن نہیں بلکہ اس کے ساتھی ہیں۔ اگر ہم ہر غلطی پر سخت سزا دیں گے تو بچہ سچ بولنے کے بجائے چھپانا سیکھے گا۔ اور یہ چھپانا آگے چل کر بڑے مسائل کو جنم دیتا ہے۔

حل مشکل نہیں، مگر مستقل مزاجی مانگتا ہے۔ روزانہ چند منٹ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی بات سننا، ہفتے میں ایک دن گھر میں سب کو اکٹھا بٹھا کر کھل کر گفتگو کرنا، اور خود بھی ٹیکنالوجی کے بنیادی استعمال کو سیکھنا—یہ چھوٹے چھوٹے قدم والدین اور اولاد کے درمیان فاصلے کم کر سکتے ہیں۔

آخر میں بات بہت سادہ ہے   آج کے بچے بدتمیز نہیں، وہ مختلف دنیا میں جی رہے ہیں۔ اگر ہم اس دنیا کو سمجھے بغیر انہیں پرانے اصولوں میں قید رکھنا چاہیں گے تو فاصلے بڑھیں گے۔ لیکن اگر ہم مکالمے، اعتماد اور محبت کے ساتھ ان کے ساتھ چلیں تو یہی ڈیجیٹل دور ہمارے گھروں میں سمجھداری اور قربت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

تربیت کا سفر سختی سے نہیں، سمجھ بوجھ سے طے ہوتا ہے۔

تحریر و تحقیق ،سیدہ سفینہ ملک

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سیدہ سفینہ ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ یہ ہے کہ کے ساتھ کی بات کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟