WE News:
2026-07-24@02:19:41 GMT

جین زی ؛ رشتے اسکرینوں کے پیچھے چھپ گئے

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

جین زی ؛ رشتے اسکرینوں کے پیچھے چھپ گئے

آج کے پاکستانی گھر میں ایک عجیب خاموش کشمکش چل رہی ہے۔ ایک طرف والدین ہیں جو اپنی تربیت کو کامیاب سمجھتے ہیں کیونکہ انہوں نے سختی، نظم و ضبط اور ’بڑوں کی بات ماننے‘ کے اصولوں پر پرورش پائی۔

دوسری طرف آج کے بچے ہیں، جن کی دنیا موبائل اسکرین کے اندر سمٹ آئی ہے۔ یہ دو دنیائیں ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے اجنبی ہوتی جا رہی ہیں۔

ہمارے ہاں تربیت کا مطلب اکثر حکم دینا اور بچوں سے بلا چون و چرا اطاعت کروانا سمجھا جاتا ہے۔ ’ہم نے تو ایسے ہی سیکھا تھا‘ والدین کا سب سے مضبوط جملہ بن چکا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا آج کا زمانہ بھی ویسا ہی ہے؟ کیا آج کے بچے بھی وہی دنیا دیکھ رہے ہیں جو ہم نے دیکھی تھی؟ یقیناً نہیں۔

ماضی میں بچے کی دنیا گھر، محلہ اور اسکول تک محدود تھی۔ آج وہ انٹرنیٹ کے ذریعے پوری دنیا سے جڑا ہوا ہے۔ چند سیکنڈ میں وہ ایسی معلومات تک پہنچ جاتا ہے جو پہلے بڑے بڑے کتب خانوں میں بھی مشکل سے ملتی تھیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے Facebook، Instagram اور TikTok نے نوجوانوں کے سوچنے، بولنے اور خود کو دیکھنے کے انداز کو بدل دیا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ یہ پلیٹ فارمز موجود ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم بطور والدین ان کی دنیا کو سمجھے بغیر صرف ڈر کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔

ہم میں سے اکثر والدین بچوں کو موبائل یا انٹرنیٹ سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ڈیجیٹل دنیا اب بچوں کی زندگی کا مستقل حصہ بن چکی ہے۔

اسے مکمل طور پر روکنا ممکن بھی نہیں اور فائدہ مند بھی نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی ڈیجیٹل دنیا کو سمجھیں۔ وہ کن لوگوں کو فالو کرتے ہیں؟ کیا دیکھتے ہیں؟ کن باتوں سے متاثر ہوتے ہیں؟ یہ سوالات صرف نگرانی کے لیے نہیں بلکہ سمجھنے کے لیے ہونے چاہئیں۔

آج کے بچوں پر دباؤ پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ صرف اچھے نمبروں کے لیے نہیں بلکہ اچھا نظر آنے، مقبول ہونے اور دوسروں سے آگے نکلنے کے دباؤ میں بھی جیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ’کامیاب زندگیوں‘ کو دیکھ کر وہ اپنی عام سی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔

اس دباؤ کے نتیجے میں کئی بچے خاموشی سے ذہنی تناؤ اور بے چینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر World Health Organization بھی خبردار کر چکا ہے کہ نوجوانوں میں ذہنی صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں، اور ڈیجیٹل ماحول اس میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اب بھی بچوں کے جذبات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ اگر بچہ اداس ہو تو کہا جاتا ہے ’یہ کوئی مسئلہ نہیں، ہم نے بھی سب برداشت کیا ہے۔‘

اگر وہ پریشان ہو تو جواب ملتا ہے ’اتنی چھوٹی عمر میں ڈپریشن کیسا؟‘ یہی جملے بچوں کو والدین سے مزید دور کر دیتے ہیں۔ وہ پھر اپنے سوالات اور الجھنوں کے جواب انٹرنیٹ یا دوستوں میں ڈھونڈنے لگتے ہیں۔

اصل مسئلہ نسلوں کے درمیان مکالمے کی کمی ہے۔ ہم بولتے بہت ہیں، سنتے کم ہیں۔ والدین اکثر بچوں کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ حالانکہ بچوں کو نصیحت سے پہلے توجہ اور سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر بچہ محسوس کرے کہ اس کی بات سنی جا رہی ہے تو وہ آہستہ آہستہ والدین پر اعتماد کرنے لگتا ہے۔

تربیت کا مطلب صرف کنٹرول کرنا نہیں بلکہ رہنمائی کرنا ہے۔ بچے کو یہ احساس دلانا کہ وہ غلطی کرے تو والدین اس کے دشمن نہیں بلکہ اس کے ساتھی ہیں۔ اگر ہم ہر غلطی پر سخت سزا دیں گے تو بچہ سچ بولنے کے بجائے چھپانا سیکھے گا۔ اور یہ چھپانا آگے چل کر بڑے مسائل کو جنم دیتا ہے۔

حل مشکل نہیں، مگر مستقل مزاجی مانگتا ہے۔ روزانہ چند منٹ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی بات سننا، ہفتے میں ایک دن گھر میں سب کو اکٹھا بٹھا کر کھل کر گفتگو کرنا، اور خود بھی ٹیکنالوجی کے بنیادی استعمال کو سیکھنا—یہ چھوٹے چھوٹے قدم والدین اور اولاد کے درمیان فاصلے کم کر سکتے ہیں۔

آخر میں بات بہت سادہ ہے   آج کے بچے بدتمیز نہیں، وہ مختلف دنیا میں جی رہے ہیں۔ اگر ہم اس دنیا کو سمجھے بغیر انہیں پرانے اصولوں میں قید رکھنا چاہیں گے تو فاصلے بڑھیں گے۔ لیکن اگر ہم مکالمے، اعتماد اور محبت کے ساتھ ان کے ساتھ چلیں تو یہی ڈیجیٹل دور ہمارے گھروں میں سمجھداری اور قربت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

تربیت کا سفر سختی سے نہیں، سمجھ بوجھ سے طے ہوتا ہے۔

تحریر و تحقیق ،سیدہ سفینہ ملک

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سیدہ سفینہ ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ یہ ہے کہ کے ساتھ کی بات کے لیے

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف