نائلہ راجہ نے عماد وسیم سے شادی کرنے کی وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
سوشل میڈیا انفلوئنسر نائلہ راجہ نے قومی کرکٹر عماد وسیم سے شادی کرنے کی وجہ بتادی۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عماد وسیم نے 16 فروری کو نائلہ راجہ کے ساتھ شادی کی تصدیق کی تھی۔
عماد وسیم نے سماجی رابطے کی سائٹ انسٹاگرام پر اپنی ماضی کی زندگی، بچوں اور دوسری شادی سے متعلق تفصیلی پوسٹ کی۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اُس رشتے کو بہتر اور حالات ٹھیک کرنے کی کوشش میں ضرورت سے زیادہ عرصے تک رہا مگر کامیاب نہ ہوسکا، اس دوران کچھ فیصلوں میں تاخیر اور غلطیاں بھی ہوئیں۔
بعد ازاں، کرکٹر کی پہلی اہلیہ ثانیہ اشفاق نے عماد وسیم پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ دسمبر 2023 میں عماد نے لاہور میں میرے بچے کا اسقاط حمل کروا دیا تھا۔
View this post on Instagramثانیہ نے کہا کہ یہ قاتل ہے اس نے مجھے دھوکا دیا اور میرے پاس اس کا ویڈیو ثبوت ہے، جب کہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے ایک قاتل اور دھوکے باز کو موقع دیا ہے اسلام آباد یونائیٹڈ کا بائیکاٹ کیا جائے کسی بھی قاتل اور دھوکے باز کو فرار نہیں ہونا چاہیے۔
یاد رہے کہ نائلہ راجہ کا نام کرکٹر عماد وسیم کے ساتھ مبینہ تعلقات کی خبروں کی وجہ سے وائرل ہوا، اُس وقت دونوں نے ان افواہوں کی تردید کی تھی کیونکہ عماد کی پہلی اہلیہ ثانیہ اشفاق نے انہی دنوں تیسرے بچے کو جنم دیا تھا۔
View this post on Instagramجس پر عماد وسیم کی پہلی اہلیہ ثانیہ نے کھل کر اپنے شوہر کے مبینہ تعلق کے بارے میں بات کی اور کہا کہ وہ اپنے بیٹے کی پیدائش پر بھی نہیں گئے تھے۔
مزید پڑھیںعماد وسیم اور نائلہ راجہ کی شادی کے بعد ثانیہ اشفاق کا نیا دعویٰ سامنے آگیا
عماد وسیم اور نائلہ راجہ کی شادی نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی
بعد میں نایلا نے بھی تمام خبروں کی تردید کرتے ہوئے عماد کے ساتھ تصاویر کو صرف ’فین مومنٹ‘ قرار دیا تھا اور اب یہی فین مومنٹ شادی کی تصاویر میں بدل گیا ہے۔
اب سوشل میڈیا انفلوئنسرنائلہ راجہ نے بھی عماد وسیم سے شادی کرنے پر خاموشی توڑ دی۔
View this post on Instagramسوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ اگر عماد کبھی اپنے بچوں سے دوبارہ ملتے ہیں تو وہ انہیں کھلے دل سے قبول کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ یہی ان کی سچائی ہے اور ماضی میں ہونے والی تنقید کے باوجود وہ اپنے موقف پر قائم ہیں۔
انٹرنیٹ صارفین نے نایلا کی وضاحت پر مختلف ردعمل دیا۔
View this post on Instagramایک صارف نے لکھا ’یہ کہنے کے لیے بھی ہمت چاہیے، خود کو مظلوم کیوں ظاہر کر رہی ہو‘۔
ایک اور نے کہا کہ جو آدمی اپنے بچوں کو چھوڑ سکتا ہے وہ تمہارے ساتھ بھی ایسا کرسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔