Daily Mumtaz:
2026-07-24@00:52:34 GMT

جوانی کا راز روزے میں؟ دبئی کے ڈاکٹر کا انکشاف

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

جوانی کا راز روزے میں؟ دبئی کے ڈاکٹر کا انکشاف

رمضان میں مسلمان دن بھر کھانے سے پرہیز کرتے ہیں اور اب ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ اس کا فائدہ صرف روحانی نہیں بلکہ جسمانی بھی ہے۔

روزہ رکھنے سے جسم کو کھانے سے آرام ملتا ہے اور یہ خراب یا پرانے خلیات صاف کرنے، سوزش کم کرنے اور جسم کی مرمت کرنے کا موقع دیتا ہے۔ اس طرح روزے سے نہ صرف وزن اور ہاضمہ بہتر ہوتا ہے بلکہ صحت مند عمر کے لیے بھی مدد ملتی ہے۔

رمضان ایک سالانہ ”ری سیٹ“ کی طرح کام کرتا ہے، جو جسم اور دماغ کو تازہ اور چست رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ڈاکٹر راحت غضنفر، فیملی میڈیسن کنسلٹنٹ، لونجیویٹی کلینک، شیخ شخبوط میڈیکل سٹی، بتاتی ہیں، ’روزے کے دوران جسم مستقل کھانے اور شوگر کے اثرات سے دور رہتا ہے۔ چند گھنٹے بغیر کھانے کے بعد، جسم اپنی چربی استعمال کرنا شروع کرتا ہے اور خراب یا پرانے خلیات صاف ہوتے ہیں۔ یہ سوزش کم کرتا ہے اور جسم مرمت پر فوکس کرتا ہے، جو عمر بڑھنے کی رفتار کو سست کر سکتا ہے۔‘

عمر رسیدگی کا اندازہ صرف ظاہری شکل سے نہیں لگایا جاسکتا۔ اہم ہے کہ خون میں شوگر، کولیسٹرول، پٹھے اور ہڈیوں کی صحت، دل اور ہارمونز کا توازن ٹھیک رہے۔

روزہ رکھنے سے جسم کے مرمت کے عمل فعال ہوتے ہیں، جو صرف کم کھانے سے نہیں ہوتے۔ اس لیے کھانے کا وقت اور وقفہ دونوں اہم ہیں۔

روزے کے دوران انسولین کم ہوتی ہے، جو ذیابیطس اور وزن کے مسائل سے بچاتی ہے۔ گروتھ ہارمون بڑھتا ہے، جس سے پٹھے مضبوط رہتے ہیں اور جسم کی مرمت ہوتی ہے۔ سوزش بھی کم ہوتی ہے، جس سے ہاضمہ بہتر اور دماغ صاف محسوس ہوتا ہے۔

روزہ جلد یا پٹھوں کو براہ راست بہتر نہیں کرتا۔ اگر پروٹین اور ورزش مناسب نہ ہوں تو زیادہ روزے سے پٹھے کمزور ہو سکتے ہیں۔ ظاہری فرق زیادہ تر بہتر ہاضمہ اور وزن کم ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔

روزے کے اثرات عمر، جنس، صحت اور تناؤ کے مطابق مختلف ہوتے ہیں۔ نوجوان اور صحت مند افراد روزہ آسانی سے رکھ پاتے ہیں، جبکہ بزرگوں اور خواتین کو غذائیت اور پٹھوں کی حفاظت پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔

اگر رمضان کے بعد بھی صحت مند عادات برقرار رکھی جائیں، جیسے رات کو دیر سے نہ کھانا، کھانے کے وقفے اور مناسب نیند تو روزے کے فوائد طویل مدتی رہتے ہیں۔

کلیولینڈ کلینک ابوظہبی کی ڈاکٹر نورس ابوحمیدہ کہتی ہیں، روزہ جسم کو آرام کا موقع دیتا ہے، انسولین کم ہوتی ہے اور جسم چربی استعمال کرنا شروع کرتا ہے۔ یہ میٹابولک اور دل کی صحت بہتر بناتا ہے، جو صحت مند عمر کے لیے اہم ہے۔

روزہ صرف کھانے سے پرہیز نہیں بلکہ جسم اور دماغ کے لیے ایک سالانہ ری سیٹ ہے۔ اگر صحت مند عادات کے ساتھ ان معمولات کو جاری رکھا جائے تو یہ نہ صرف وزن اور ہاضمہ بہتر کرتا ہے بلکہ عمر رسیدگی کے عمل کو بھی سست کر سکتا ہے، جسم کو چست اور ذہن کو صاف رکھتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کھانے سے ہوتا ہے اور جسم کرتا ہے روزے کے ہوتی ہے ہے اور

پڑھیں:

دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی کے بعد دبئی نے سیاحت کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے منفرد مہم شروع کر دی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق نئی اسکیم کے تحت متحدہ عرب امارات کے رہائشی اگر اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کو دبئی گھومنے کے لیے آمادہ کریں تو انھیں 3 ہزار اماراتی درہم مالیت تک کے انعامات اور سہولتیں دی جائیں گی۔

دبئی کے محکمۂ اقتصادیات و سیاحت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اسکیم ’’دبئی اِنوائٹ‘‘ کے تحت یو اے ای میں مقیم افراد اپنے بیرونِ ملک رہنے والے دوستوں اور اہلِ خانہ کو نامزد کرسکتے ہیں۔

اگر کسی شہری کی دعوت پر ان کے دوست یا رشتہ دار سیاحتی ویزے پر دبئی آتے ہیں تو میزبان کو ہوٹل میں قیام، ریستورانوں میں خصوصی رعایت، تفریحی مقامات کے ٹکٹ اور دیگر مراعات پر مشتمل خصوصی پیکیج دیا جائے گا۔

اس اسکیم کے تحت ہر رہائشی زیادہ سے زیادہ تین مہمانوں کے لیے فوائد حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ مہمان 31 اکتوبر سے پہلے دبئی پہنچ جائیں۔ تاہم ان مراعات سے دسمبر تک فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔

اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آنے والا فرد یو اے ای کا رہائشی نہ ہو، وہ درست سیاحتی ویزے پر سفر کرے اور اسے صرف ایک مرتبہ ہی نامزد کیا جا سکے گا۔

دبئی حکومت کے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچنے کے بعد سیاحت شدید متاثر ہوئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور معروف فیئرمونٹ ہوٹل کو نقصان پہنچا جس سے دبئی کی محفوظ سیاحتی مقام کی ساکھ متاثر ہوئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 2025 میں دبئی نے تقریباً 2 کروڑ بین الاقوامی سیاحوں کا خیرمقدم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن حالیہ جنگ کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔

ہوائی سفر پر سیکیورٹی خدشات بڑھنے کے باعث دبئی آنے والی کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دیں جبکہ متعدد طیاروں نے مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے سے گریز کیا۔

اس کے نتیجے میں دبئی ایئرپورٹس پر آپریٹ کرنے والی ایئرلائنز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ دوسری جانب ہوٹلوں میں بکنگ کم ہونے سے خالی کمروں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور کئی کاروباری اداروں کی آمدنی میں 50 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔

دبئی کے بعض مشہور ہوٹلوں نے کم طلب کے باعث تزئین و آرائش کے منصوبے قبل از وقت شروع کر دیے ہیں۔ دنیا کے مشہور برج العرب ہوٹل کو بھی بڑے پیمانے پر مرمت اور بحالی کے لیے تقریباً 18 ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ کئی ہوٹل اور سیاحتی ادارے حکومت کی نئی اسکیم کے تحت 45 فیصد تک رعایت اور مفت قیام جیسی خصوصی پیشکشیں بھی دے رہے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق دبئی اِنوائٹ اسکیم کے آغاز کے صرف 48 گھنٹوں میں 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو اس منصوبے سے سیاحت کی بحالی کی امیدیں وابستہ ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف