Juraat:
2026-07-24@01:08:45 GMT

خسارے کے شکارسرکاری اِدارے

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

خسارے کے شکارسرکاری اِدارے

حمیداللہ بھٹی

 

حکومتی معاشی ارسطوکہتے ہیں سفارتی کامیابیوں سے عالمی ساکھ بہتر ہوئی ہے، کیونکہ ہر ملک پاکستان سے تعلقات اور سرمایہ کاری کا خواہمشند ہے۔ بڑے بڑے منصوبوں پر کام جاری اور ترقی کا عمل عروج پر ہے ۔معدنیات سے مزید وسائل اکٹھے کیے جارہے ہیں۔ اب قرضوں سے چھٹکارہ ملے گا۔ اِس عمل کو معاشی کامیابی قراردیاجاتا ہے لیکن حقائق ایسے دعوئوں کی تائیدنہیں کرتے ۔ حالت یہ ہے کہ برآمدات میں مسلسل کمی اور درآمدات میں اضافہ ہوتاجارہا ہے ۔ملک نہ صرف قرضوں کی دلدل میں مزید دھنس رہا ہے بلکہ ملکی اِدارے مسلسل زوال پذیر ہیں،یوں خسارے کے شکارہیں۔ لیکن حکومتی توجہ اِداروں کو خسارے سے نکالنے کے بجائے مزید قرض لینے پر ہے۔ یہ ایسا پہلو ہے جس سے حکمرانوں کی نیک نامی میں اضافہ ہونے کی بجائے کارکردگی سوالیہ نشان ہوئی ہے اور شہری یہ سوچنے پر حق بجانب ہیں کہ شاید حکمرانوں کو کسی محاسبے کاخوف نہیں، اسی لیے فرائض سے غفلت کے مرتکب ہیں۔
اگر اپوزیشن کہتی تو شاید لوگ یہ کہہ کر رَد کردیتے کہ وہ سچ بول ہی نہیں سکتی اور اُس کا تو کام ہی تنقید کرنا ہے مگر جب حکومت خود خسارے کی نشاندہی کرنے لگے تو اِس کا ایک ہی مطلب ہے کہ صورتحال اتنی دگرگوں ہے کہ اب چھپانا ممکن ہی نہیں رہا۔ یا تو حکمران فرائض کی اِدائیگی میں غفلت کا شکار ہیں اور صرف اقتدار تک محدودہوچکے ہیں یا اُن میں ایسی کوئی صلاحیت واہلیت ہی نہیں کہ امورِ مملکت میں کچھ بہتری لا سکیں۔ وزارتِ خزانہ کی حالیہ ایک رپورٹ چشم کشاہے جس میں مالی سال 2025 میں سرکاری اِداروں کے مالی معاملات کی نقاب کُشائی کی گئی ہے۔ اِس کے مطابق ایک برس میں صرف پچیس اِداروں کو مجموعی طوپر 832ارب کا نقصان ہواہے ۔حالانکہ ایک برس قبل 2024 میں منافع نکالنے کے بعدیہ نقصان محض 30.

6ارب تھا، مگر حیران کُن طورپر صرف ایک برس میں یہ نقصان تین صدفیصد اضافے سے 123ارب ہوگیا ۔اگر زیادہ نقصان میں جانے والے اداروں کی بات کریں تو اِن میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی 295ارب نقصان کے ساتھ سرِ فہرست ہے ۔یادرہے کہ حکومت نے اِسے نقصان سے نکالنے کے لیے ٹول ٹیکس میں کئی بار اضافہ کیا پھر بھی اگریہ نقصان میں ہے تو سوال یہ ہے کہ اِس کے وہ کون سے ایسے اخراجات ہیں جن کی وجہ سے یہ اِدارہ تباہی کے دہانے پر جاپہنچا ہے؟ اگر حکومت نے اِس سوال کادرست جواب معلوم کر لیا تو مجھے یقین ہے کہ تباہی کی رفتار اگر ختم نہیں تو کم ضرور ہو جائے گی۔
بجلی کی سپلائی کمپنیاں ،ریلوے اور پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی بھی خسارے کا شکار ہیں۔ خطے میں سب سے مہنگی بجلی پاکستان میں ہے اور حکومت کو جب بھی وسائل کی ضرورت پڑتی ہے تو بجلی اور تیل کے نرخ بڑھالیے جاتے ہیں۔ مہنگی بجلی سے ملک کی صنعتی حالت خراب ہوچکی مگر معاشی حالت بہتر بنانے کے بلند وبانگ دعوے کرتے ہوئے حکومت نے کبھی کوشش نہیں کی کہ بند ہوتی صنعتوں کو ارزاں نرخوں پر بجلی دیکر برآمدات میں اضافہ کیا جائے ،بلکہ دوہزار ارب کپیسٹی چارجز کی مدمیں بغیر بجلی پیداکیے آئی پی پیز کودے کر خوش اور مطمئن ہے۔ اتنی بڑی واردات کا مطلب ہے کہ آئی پی پیز کو حکومتی حلقوں میں دور تک رسائی حاصل ہے اسی لیے بلاجھجک عوام کا خون نچوڑ اجاتا ہے ۔ ریلوے کی اربوں کی اراضی قبضہ گروپوں کے پاس ہے ۔نیز یہ واحد ایسا شعبہ ہے جس میں مفت سفر کرنے والوں کی تعدادہزاروں لاکھوں میں ہے جس کا کوئی تدارک نہیں کیاجارہا جس سے اِس خیال کو تقوت ملتی ہے کہ اِس اِدارے کے لوگ اِس میں ملوث ہیں۔ یہ فرائض کی بجا آوری میں کوتاہی ہے۔ اگر اسٹیشنوں پر ایسے دروازے نصب کردیے جائیں جو ٹکٹ دکھانے کے بعد گزرنے کا راستہ دیں تو بغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ نیز قبضہ گروپوں سے زمین واگزار کراکر بھی نئے منصوبوں سے آمدن بڑھائی جا سکتی ہے، جہاں تک پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کی بات ہے تو اِس کے خسارے میں حکومتی فیصلوں اور مداخلت کا عمل دخل ہے۔ حکومت نے پی آئی اے کو نجی شعبے میں دینے کے لیے واجب الادا 650ارب ہولڈنگ کمپنی کے کھاتے میں ڈال دیے ۔اِس کامقصد اچھے دام لینابتایاگیا ،جبکہ پہلی بار بولی میں واجب الادا 650ارب کے ساتھ حکومت کو دس ارب کی پیشکش ہوئی جسے مسترد کردیا گیا، جس کے بعد باریک واردات ڈالی گئی اور راتوں رات 650ارب پی آئی اے کے کھاتے سے نکال کر ہولڈنگ کمپنی کے شمارمیں کر دیے گئے تا کہ اچھے دام ملیں سکیں اور پھر حبیب کنسورشیم نے بولی لگائی تو حکومت نے ایک اور شاہانہ نوازش یہ کی کہ پیشکش کے 125ارب یہ کہہ کروصول کرنے سے انکار کردیا کہ خریدار اِس رقم کو پی آئی اے کی بہتر ی پر لگا لے۔ ایسے فیصلے پسِ پردہ مفاہمت کی طرف اِشارہ کرتے ہیں اب جبکہ اپریل میں حبیب کنسورشیم بقیہ پچیس فیصد خرید کر پی آئی اے کا مکمل مالک بن جائے گا توسوال یہ ہے کہ ملک کو اِس نجکاری کا فائدہ ہواہے؟اِس کادرست جواب نہیں کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوسکتا۔ بظاہرحکومت نے نجکاری کے نام پرچند منظورِ نظر لوگوں میں پی آئی اے جیسا اِدارہ مفت بانٹ دیا ہے ۔
نجکاری حالات کا تقاضا ہے، مگر اِس حوالے سے ملکی مفاد کاتحفظ بھی ضروری ہے۔ اگر نجکاری کے نام پردوستوں کو نوازنا ہے تو اِسے نجکاری کا پیراہن نہ پہنائیں۔ اصلاحات سرکاری اِداروں کی کارکردگی بہتر بنانامشکل نہیں۔ اِس طرح گورننس بہتر بھی بہتر ہوگی۔ رائٹ سائزنگ سے اِداروں کو خسارے سے نکالا جا سکتا ہے لیکن حکومت دعوے تو کرتی ہے لیکن عملی طورپر ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔سرکاری اِداروں میں سیاسی مداخلت سے نااہل لوگوں کی بھرمارہوچکی ہے۔ آج بھی فرسودہ طریقہ کار رائج ہے۔ یہ عوامل اِداروں کی مارکیٹ ویلیومتاثر کرتے ہیں۔ گزشتہ برس حکومت نے 2078ارب خسارے میں جانے والے اِداروں کو دیے ۔یہ کُل محاصل کا سولہ فیصد ہے۔ یہ اِتنی بڑی رقم ہے جس سے تعلیم و صحت اور انفراسٹرکچر کے کئی اچھے منصوبے مکمل ہوسکتے تھے۔ چہ جائیکہ اِدارے حکومتی آمدن بڑھانے میں حصہ دار بنتے لیکن محاصل کے ہر چھ روپے میں سے ایک روپیہ حکومت نے اپنے ماتحت اِداروں کو رواں رکھنے پر صرف کر دیا۔اِس میں اہلیت وصلاحیت اور اصلاحات کا کتنا عمل دخل ہے؟ اِس کی نشاندہی کرنے کا فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیتے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ہولڈنگ کمپنی حکومت نے ا ا داروں کو پی آئی اے

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف