این آئی سی وی ڈی میں مبینہ غیر قانونی تقرریوں پر نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
تقرریوں اور ترقیوں کی مکمل جانچ پڑتال کی رپورٹ پندرہ دن میں جمع کرائیں
سندھ ہائیکورٹ کا سیکریٹری صحت کو شفاف اور غیر جانب داری انکوائری کا حکم
سندھ ہائی کورٹ نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز (این آئی سی وی ڈی) میں مبینہ غیر قانونی تقرریوں اور پروموشنز کے معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری صحت سندھ کو شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کا حکم دے دیا ہے ۔ عدالت کے روبرو پیش کیے گئے معاملے میں داور حسین، محمد فیصل اور راجیہ عروج سمیت دیگر افسران کے نام سامنے آئے ۔ عدالت نے اوپن کورٹ میں حکم تحریر کراتے ہوئے ہدایت کی کہ تقرریوں اور ترقیوں کی مکمل جانچ پڑتال کر کے مفصل رپورٹ پندرہ دن کے اندر جمع کرائی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ مقررہ مدت کے بعد دوبارہ سماعت ہو گی اور اگر بے ضابطگیاں ثابت ہوئیں تو ذمہ داران کے خلاف تادیبی کارروائی اور ممکنہ سزاؤں پر غور کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اوپن کورٹ میں آرڈر لکھوانے کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور متعلقہ حکام کو باضابطہ آگاہ کرنا ہے تاکہ قانونی تقاضے فوری طور پر پورے ہوں۔ اب نگاہیں سیکرٹری صحت اور چیف سیکرٹری سندھ پر ہیں کہ وہ مقررہ مدت میں انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر رپورٹ پیش کرتے ہیں یا نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔