WE News:
2026-06-02@22:17:43 GMT

سپریم کورٹ: سائفر اپیل کیس بغیر کارروائی ملتوی

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

سپریم کورٹ: سائفر اپیل کیس بغیر کارروائی ملتوی

سپریم کورٹ میں سائفر اپیل کیس کی سماعت بغیر باقاعدہ کارروائی کے غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

سماعت کے دوران پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اب تک کیس کا تفصیلی فیصلہ جمع نہیں کرایا گیا۔ انہوں نے استدعا کی کہ تفصیلی فیصلہ جمع کرانے کے لیے مہلت دی جائے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے صحافی سہراب برکت کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کر لی

اسی دوران بیرسٹر سلمان صفدر روسٹرم پر آ گئے، جس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا، سلمان صاحب آپ کیا کر رہے ہیں؟ بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ عدالت میں موجود تھے تاہم انہیں اس کیس میں نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اگر آپ چاہیں تو آپ کو نوٹس جاری کر دیتے ہیں، تاہم ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ اپیل قابلِ سماعت ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیں:مرد عورتوں کے محافظ ہیں، قاتل نہیں: سپریم کورٹ نے قاتل شوہر کی اپیل خارج کر دی

عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل کو تفصیلی فیصلہ جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے کیس کو غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بیرسٹر سلمان صفدر جسٹس ہاشم کاکڑ سائفر اپیل کیس سپریم کورٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جسٹس ہاشم کاکڑ سائفر اپیل کیس سپریم کورٹ سپریم کورٹ کے لیے

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور