رمضان المبارک کے دوران گیس کی فراہمی کا شیڈول جاری
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
کراچی:
سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے رمضان المبارک 1447 ہجری کے دوران صارفین کو سحر اور افطار کے اوقات میں گیس کی بہتر فراہمی یقینی بنانے کے لیے خصوصی شیڈول جاری کر دیا ہے۔
ایس ایس جی سی کے اعلامیے کے مطابق رمضان کے دوران روزانہ صبح 3:00 بجے (سحری سے قبل) سے رات 10:30 بجے تک گیس کی فراہمی جاری رکھی جائے گی تاکہ صارفین سحری اور افطاری کے پکوانوں کی تیاری بلا تعطل کر سکیں۔
سوئی سدرن نے اپنے صارفین کو رمضان کی مبارک باد دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ مقدس مہینے میں گیس کا پریشر بہتر سطح پر برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں گیس کے ذخائر میں ہر سال تقریباً 10 فیصد تک کمی کے باعث گیس کی مجموعی رسد متاثر ہو رہی ہے، تاہم حکومت پاکستان کی جانب سے رمضان المبارک کے پیش نظر اضافی گیس کی فراہمی ممکن بنائی گئی ہے، جس سے ضرورت کے مطابق استعمال میں لایا جائے گا۔
ایس ایس جی سی نے واضح کیا ہے کہ مقررہ اوقات کے دوران اگر کسی صارف کو کم پریشر یا گیس کی بندش کی شکایت ہو تو وہ فوری طور پر 1199 ہیلپ لائن، موبائل ایپ یا قریبی کسٹمر فیسلٹیشن سینٹر سے رابطہ کرے اور ادارے کا عملہ شکایات کے ازالے کے لیے 24 گھنٹے متحرک رہے گا۔
سوئی سدرن نے صارفین پر زور دیا ہے کہ سحری اور افطاری کے اوقات میں لاکھوں چولہوں کے بیک وقت استعمال کے باعث گیس کا دباؤ متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے گیس کا ذمہ دارانہ استعمال یقینی بنایا جائے اور بلا ضرورت چولہا جلتا نہ چھوڑا جائے تاکہ تمام صارفین کو ان کی ضرورت کے مطابق گیس میسر آ سکے۔
اعلامیے میں گیس کمپریسر کے غیر قانونی استعمال کو غیراخلاقی اور قابل سزا عمل قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسے اقدامات سے دیگر صارفین متاثر ہوتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے دوران میں گیس گیس کی
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔