Islam Times:
2026-06-03@00:52:46 GMT

اپوزیشن کا پارلیمنٹ ہاؤس دھرنا ختم کرنے کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

اپوزیشن کا پارلیمنٹ ہاؤس دھرنا ختم کرنے کا اعلان

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ رمضان شروع ہو رہا ہے اس لیے دھرنا ختم کر رہے ہیں، جلد اگلا لائحہ عمل طے کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اپوزیشن نے پارلیمنٹ ہاؤس میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا، علامہ ناصر عباس کے مطابق رمضان کے باعث دھرنا ختم کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ رمضان شروع ہو رہا ہے اس لیے دھرنا ختم کر رہے ہیں، جلد اگلا لائحہ عمل طے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے صحت سے متعلق خدشات موجود ہیں اور ان کا علاج شفا انٹرنیشنل اسپتال میں ہونا چاہیے، بہنوں اور ڈاکٹرز سے ملاقات کرائی جائے تاکہ وہ مطمئن ہوسکیں۔
 
سپریم کورٹ کے باہر گفتگو میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں عوام نے خود دھرنا دیا اور پشاور ہائیکورٹ کے احکامات کا احترام کیا گیا، تاہم قیادت کے اعلان پر اب دھرنا ختم کیا جا رہا ہے۔ سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے فورس بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عید کے بعد ممبران سے پشاور میں حلف لوں گا، ایک کال دیں گے تو سب میرے ساتھ ہوں گے، پہلے تیاری ہوگی پھر لڑائی ہوگی، جیت حق اور سچ کی ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان