Jasarat News:
2026-06-03@02:39:31 GMT

مردعورتوں کے محافظ ہیں، قاتل نہیں،عدالت عظمیٰ

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد(آن لائن)عدالت عظمیٰ نے بیوی کو قتل کرنے والے منشیات کے عادی شخص وارث مسیح کی اپیل خارج کرتے ہوئے اس کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھاہے ،عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ریاست جامع قانون سازی، مؤثر نفاذ کے طریقہ کار اور معاون پروگراموں کے ذریعے خواتین پر ہونے والے ظلم کو روکے۔مردعورتوں کے محافظ ہیں، قاتل نہیں۔ خواتین معاشرے کی برابر کی رکن ہیں جو تحفظ، احترام اور وقار کی حقدار ہیں۔جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے تحریری فیصلہ جاری کردیا، جسے جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے تحریر کیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ معاشرے میں خواتین کے ساتھ معمولی باتوں پر جانوروں جیسا سلوک اور بہیمانہ تشدد کیا جا رہا ہے، جبکہ منشیات کی لت خواتین پر ہونے والے وحشیانہ تشدد کی ایک بڑی وجہ ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے مقدس رشتے کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ ریاست جامع قانون سازی، مؤثر نفاذ کے طریقہ کار اور معاون پروگراموں کے ذریعے خواتین پر ہونے والے ظلم کو روکے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ خواتین کا تحفظ آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت حقِ زندگی و آزادی اور آرٹیکل 25 کے تحت برابری کی بنیاد پر ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔استغاثہ کے مطابق ملزم منشیات کا عادی تھا اور اپنی بیوی کے ساتھ اکثر جھگڑا کرتا تھا۔ ملزم نے 6 جولائی 2015 کی آدھی رات کو اپنی بیوی اور 2 کمسن بچوں کو ڈنڈوں کے وار کرکے شدید زخمی کیا۔ملزم کی اپنی بیٹی نے بطور چشم دید اور زخمی گواہ اپنے باپ کے خلاف گواہی دی۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی موت کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹنے اور دماغی چوٹوں کے باعث ہوئی۔واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ملزم وارث مسیح کو اپنی بیوی کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی جبکہ بچوں کو زخمی کرنے پر ایک سال قیدِ بامشقت اور دیت کا 5 فیصد جرمانہ ادا کرنے کی سزا بھی دی تھی۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے صرف سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا، جسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھتے ہوئے ملزم کی اپیل خارج کر دی۔

خبر ایجنسی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ