مردعورتوں کے محافظ ہیں، قاتل نہیں،عدالت عظمیٰ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(آن لائن)عدالت عظمیٰ نے بیوی کو قتل کرنے والے منشیات کے عادی شخص وارث مسیح کی اپیل خارج کرتے ہوئے اس کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھاہے ،عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ریاست جامع قانون سازی، مؤثر نفاذ کے طریقہ کار اور معاون پروگراموں کے ذریعے خواتین پر ہونے والے ظلم کو روکے۔مردعورتوں کے محافظ ہیں، قاتل نہیں۔ خواتین معاشرے کی برابر کی رکن ہیں جو تحفظ، احترام اور وقار کی حقدار ہیں۔جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے تحریری فیصلہ جاری کردیا، جسے جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے تحریر کیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ معاشرے میں خواتین کے ساتھ معمولی باتوں پر جانوروں جیسا سلوک اور بہیمانہ تشدد کیا جا رہا ہے، جبکہ منشیات کی لت خواتین پر ہونے والے وحشیانہ تشدد کی ایک بڑی وجہ ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے مقدس رشتے کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ ریاست جامع قانون سازی، مؤثر نفاذ کے طریقہ کار اور معاون پروگراموں کے ذریعے خواتین پر ہونے والے ظلم کو روکے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ خواتین کا تحفظ آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت حقِ زندگی و آزادی اور آرٹیکل 25 کے تحت برابری کی بنیاد پر ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔استغاثہ کے مطابق ملزم منشیات کا عادی تھا اور اپنی بیوی کے ساتھ اکثر جھگڑا کرتا تھا۔ ملزم نے 6 جولائی 2015 کی آدھی رات کو اپنی بیوی اور 2 کمسن بچوں کو ڈنڈوں کے وار کرکے شدید زخمی کیا۔ملزم کی اپنی بیٹی نے بطور چشم دید اور زخمی گواہ اپنے باپ کے خلاف گواہی دی۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی موت کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹنے اور دماغی چوٹوں کے باعث ہوئی۔واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ملزم وارث مسیح کو اپنی بیوی کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی جبکہ بچوں کو زخمی کرنے پر ایک سال قیدِ بامشقت اور دیت کا 5 فیصد جرمانہ ادا کرنے کی سزا بھی دی تھی۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے صرف سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا، جسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھتے ہوئے ملزم کی اپیل خارج کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :