اراکینِ پارلیمان کا دھرنا ختم۔ وزیراعلیٰ پختونخواکا ’عمران خان رہائی فورس‘ بنانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ملک میں ماہِ رمضان کا آغاز ہونے کے باعث تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس سے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجاناصر عباس نے کہا کہ پارلیمنٹ میں دیا گیا دھرنا ہم ختم کرنے جا رہے ہیں، ارکان اسمبلی نے بانی کی صحت کو لے کر احتجاج کیا، ہم صحت کے معاملے کو عدالت لے کر گئے، ہمارا مطالبہ یہی تھا کہ ذاتی معالجین کو ملایا جائے، ہم نے دیکھا کہ پارلیمنٹ کو جیل خانہ بنا دیا گیا تھا، ہم پارلیمنٹ سے باہر جا رہے تھے کہ راستے بند کر دیے گئے۔ان کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ احتجاج میں ہم پر بہت سی بندشیں لگا دی گئیں، عمران خان کی آنکھ سے متعلق خبر آئی تو محمود اچکزئی نے کہا کہ ہم بھوک ہڑتال کریں گے، ہم نے اسی لیے احتجاج کیا کہ ذاتی معالجین کو سابق وزیراعظم تک رسائی دی جائے، اس حوالے سے ان کی بہنوں کے جذبات درست ہیں، ان کو ملاقات کی اجازت دی جائے، عمران خان کی آنکھوں کی بہتری کی ہمیں اْمید ہے جس کے لیے انہیں شفاء انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، اب کچھ بہتری ہوئی ہے لیکن ابہام ابھی باقی ہے، عمران خان نے ڈاکٹر فیصل سلطان کو ملنے کا پیغام بھیجا ہے، اب ماہ رمضان شروع ہوگیا اس لیے دھرنا ختم کرتے ہیں۔ادھر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے عمران خان رہائی فورس کے قیام کا اعلان کردیا، سابق وزیر اعظم کے کیس کی سماعت کے بعد عدالت عظمیٰ کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکام کی جانب سے عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کے بعد اب منظم عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، ملک بھر میں نوجوانوں کی ممبرشپ حاصل کی جائے گی اور فورس میں آئی ایس ایف، انصاف یوتھ ونگ، وومن ونگ، مائنارٹی ونگ، پروفیشنلز اور ہر مکتبہ فکر کے افراد شامل ہوں گے۔سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ عمران خان رہائی فورس مکمل طور پر پرامن جدوجہد کرے گی اور رہائی کے بعد فورس کو خود عمران خان تحلیل کریں گے، ممبرشپ کارڈز 4 سے 5 دن میں تیار ہو جائیں گے اور عید کے بعد پشاور میں نوجوانوں سے حلف لیا جائے گا، تحریک کے لیے مضبوط چین آف کمانڈ ہوگی اور ہر ہدایت عمران خان کی نامزد قیادت کے ذریعے آئے گی، یہ جدوجہد حقیقی آزادی، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوریت اور آزاد میڈیا کے لیے ہے۔انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ عزت اورذلت منصب سے نہیں بلکہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور عمران خان جیل میں رہ کر بھی عوام کے دلوں کی دھڑکن ہیں، پی ٹی آئی عدالتی احکامات کی مکمل پابندی کرتی ہے اور خیبر پختونخوا کے عوام نے صبر اور وفاداری کا ثبوت دیا ہے، آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، علامہ راجا ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو عمران خان نے مذاکرات اور احتجاج کی زمہ داری دی تھی ان کا فیصلہ تھا کہ پارلیمنٹ میں دھرنا دیا جائے، ہم نے ان کا فیصلہ تسلیم کیا آج انہوں نے دھرنا ختم کیا ہے اور کہا ہے ہم عمران خان کی بہنوں کی تسلی تک انکے ساتھ کھڑے ہیں۔
اسلام آباد: سیکورٹی اہلکار ایوان صدر کے قریب ڈی چوک پرالرٹ کھڑے ہیںدوسری تصویر میں علامہ راجا ناصر عباس میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عمران خان کی کہ پارلیمنٹ کے بعد کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔