Jasarat News:
2026-07-24@03:59:38 GMT

مُلک کا حقیقی طاقتور شخص؟

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260219-03-5
کیا تم یہ جانتے ہو کہ مُلک کا سب سے زیادہ طاقتور شخص کون ہوتا ہے؟ مَیں نے اپنے ساتھی سے یہ سوال کیا اور جواب طلب نگاہوں سے اُسے دیکھنے لگا۔ اِس سوال کا جواب انتہائی آسان ہے کہ سپاہی بہت طاقتور ہوتا ہے اگر وہ وردی میں ملبوس ہو اور اُس کے پاس بندوق بھی ہو‘ میرا ساتھی یہ کہہ کر فاتحانہ اندا میں ہنسنے لگا۔ جب اُس کی ہنسی ذرا تھمی تو مَیں نے چھکّا مارنے کے انداز میں کہا: ’’یار! تم ابھی تک کنویں کے مینڈک بنے ہوئے ہو‘ تمہاری نظر میں طاقت کا معیار اگر ہتھیار اور وردی ہی ہے پھر تو فوج کا سربراہ سب سے زیادہ طاقتور شخص کہلائے گا کیونکہ اُس نے جو وردی زیب تن کی ہوتی ہے وہ انتہائی مہنگی ہوتی ہے اور اُس کے پاس پستول اور بندوق کے علاوہ توپ اور ٹینک بھی ہوتے ہیں‘‘۔ میرا ساتھی میرا استدلال سن کر خجل ہوگیا اور کہنے لگا پھر تم ہی کہو کہ تمہاری نظر میں طاقتور شخص کسے کہا جاسکتا ہے۔ مَیں نے کہا کہ اِس حوالے سے مَیں تم کو ایک مُلک کی کہانی سناتا ہُوں مجھے یقین ہے کہ اِس کہانی کے اختتام پر تم کو تمہارے اِس سوال کا جواب مل جائے گا۔ اِس سے قبل کہ مَیں کہانی کی ابتدا کروں تمہیں یہ بتلانا چاہوں گا کہ جس شخص کو عوامی حمایت حاصل ہوتی ہے وہی شخص طاقتور کہلاتا ہے اور جانوروں کو قابو میں رکھنے والا چرواہا کہلاتا ہے۔

بہرکیف! مَیں جس مُلک کی کہانی تمہیں سنانے والا ہُوں وہ مُلک ہے بھُوٹان۔ سولھویں صدی سے قبل بھوٹان میں کوئی مرکزی حکومت قائم نہیں تھی بس تم یوں یہ سمجھ لو کہ وہاں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس والا معاملہ تھا‘ جو شخص بدن ہاتھ کا توانا ہوتا تھا وہ سردار بن کے آکھڑا ہوتا تھا اور پہلے سے موجود سردار سے لڑائی بھڑائی شروع کردیتا تھا۔ پھر بعض مورخوں کا خیال ہے کہ بھوٹان سے متصل علاقہ کُوچ بِہار سے آنے والے قبائل نے اور بعض مورخین کا کہنا ہے کہ تبّتی لامہ قبائل نے بھوٹان میں آکر سرداروں کو قابو کیا اور وہاں دو ایوانوں پر مشتمل حکومت قائم کی‘ ایک ایوان مذہبی معاملات دیکھتا تھا جبکہ دُوسرا ایوان دُنیوی مسائل دیکھنے کا ذمّے دار تھا۔ اُنیسویں صدی میں دُرک گیالپو قبیلہ سے تعلق رکھنے والے اُگین وانگ چک نامی ایک شخص کو اتفاق رائے سے مُلک کا بادشاہ مقرر کرلیا گیا اور اُسی قبیلے کی بادشاہت تاحال جاری ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اُگین وانگ چک نے ایسا کون سا کارنامہ کیا تھا کہ بھُوٹانی اُس کی نسل کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھے ہیں اور آج تک اُسی خاندان کی حکومت قائم ہے۔

بھُوٹان کے موجودہ سربراہ کو بادشاہ ضرور کہا جاتا ہے لیکن اُس نے اپنا مزاج بادشاہوں جیسا نہیں رکھا ہے کیونکہ اُس نے اپنی رضا سے اپنی بادشاہت کے اصول اور رواج کو ختم کرکے جمہوری حکومت قائم کردی ہے۔ اُس نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ جب ایک معمولی کارخانے کو چلانے کے لیے باہمی مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ پوری سلطنت کا نظام ایک اکیلا بادشاہ صرف اپنی عقل کو بروئے کار لاکر لوگوں کے مسائل کب تک حل کرے گا۔ بادشاہ نے اپنی نگرانی میں شفّاف انتخابات کرواکر دو قسم کے ایوانوں کی تشکیل کردی‘ ایک ایوان مرکزی معاملات دیکھنے کا ذمّے دار ہے اور دوسرا ایوان علاقائی مسائل و مشکلات دیکھنے اور اُنہیں حل کرنے پر مامور ہے۔ یہ مُلک اگرچہ جرائم سے بِالکل پاک نہیں ہے لیکن دنیا بھر کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ترین درجے پر ہے۔ بھُوٹان میں دن کا دوپہر ہو یا رات کا کوئی بھی پہر‘ لوگ اپنے مال و اَسباب کے ساتھ جہاں چاہتے ہیں وہاں بے خوف اور بے دھڑک آتے جاتے ہیں۔ بھُوٹان میں بیمار پڑنے والے اوروں کی طرح اعصابی تکلیف میں مبتلا تو ضرور نظر آتے ہیں لیکن بیمار کے لواحقین علاج معالجے کے لیے اور مالی معاملات کے حوالے سے بِالکل پریشان دکھائی نہیں دیتے ہیں کیونکہ تمام طرح کے علاج معالجے سرکاری سطح پر اور مفت کیے جاتے ہیں۔ کسی مریض کا علاج کسی وجہ سے اگر اندرونِ مُلک نہیں ہوپاتا ہے تو اُس مریض کو سرکاری خرچے پر بیرونِ مُلک بھیج دیا جاتا ہے۔ یہ سہولت صرف بھُوٹان کے باشندوں کو ہی حاصل نہیں ہے‘ اِس نعمت سے وہ لوگ بھی سرفراز ہو سکتے ہیں جن کا تعلق کسی دوسرے مُلک سے ہوتا ہے خواہ وہ وہاں نوکری کرتے ہیں یا تعلیم کے حصول کے لیے وہاں مقیم ہوتے ہیں یا وہ سَیرو تفریح کے لیے بھوٹان گئے ہوتے ہیں۔ اُس طلسماتی مُلک میں پہلی جماعت سے لے کر بارہ جماعت تک مفت تعلیم دی جاتی ہے جبکہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے لائق طالب علموں کو حکومت کی طرف سے بیرونِ مُلک جاکر تعلیم حاصل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ بُوجھنے والے بُوجھ گئے ہوں گے کہ مُلک کا اصل طاقتور کون ہوتا ہے۔

سیّد شکیل انور سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حکومت قائم طاقتور شخص وٹان میں ہوتا ہے بھ وٹان ہوتی ہے م لک کا کے لیے

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف