Jasarat News:
2026-07-23@23:27:39 GMT

دوسری تراویح

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

آج دوسری تراویح میں سورہ البقرہ کے چھٹے پارے سے اختتام سورت تک تلاوت کی گئی۔ جو تیسرے پارے کے نصف تک مشتمل ہے۔ چھٹے رکوع کا آغاز میں نیکی کے حقیقی تصور کو اجاگر کیا گیا کہ نیکی صرف چند خود ساختہ رسوم کا نام نہیں بلکہ حقیقی نیکی ایمان کے ساتھ انفاق، نماز، قول کا پاس اور صبر جیسے نیک اعمال کا نام ہے۔ اس آیت کو آیت البر کہتے ہیں۔ اس رکوع میں قصاص کی فرضیت بیان کرکے اسے حیات انسانی قرار دیا گیا۔ اسی سے متصل وصیت کا حکم دیا گیا۔ روزوں کی فرضیت اور اس کا مقصد حصول تقویٰ بتایا گیا۔ روزے کے احکامات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک اور قرآن کے تعلق کو بیان کیا گیا کہ اسی مہینے میں قرآن مجید نازل کیا گیا جو سراسر لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ ماہ رمضان اور حج کے تعین کی مناسبت سے چاند کو اللہ کی نشانی اور ایام کے تعین کا ذریعہ بتایا گیا۔ ساتویں رکوع میں جہاد و قتال کا حکم اس غرض سے دیا گیا کہ فتنے کا خاتمہ اور اللہ کا دین نافذ ہوکر رہے۔ حج اور عمرے کے احکامات پر بات کی گئی اور اسلامی حج کو زمانۂ جاہلیت کے حج کے ممتاز کیا گیا کہ اس میں اپنے آبا و اجداد کے قصے کہانیوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے کثرت سے اللہ کا ذکر کیا کرو۔ نوے رکوع میں انسانوں کو ایک امت قرار دیا گیا اور ان کے باہمی اختلافات کو ان کی اپنی اختراء قرار دیا گیا۔ دسویں رکوع میں شراب اور جوے کے متعلق ابتدائی احکامات نازل ہوئے اور موازنہ کرکے ان کے نفع کے مقابلے میں نقصانات کو زیادہ قرار دیا۔ مشرک خواتین سے نکاح سے روکا گیا۔

گیارہویں رکوع میں خواتین کے متعلق مسائل یعنی ماہواری، ایلاء، طلاق، عدت، رضاعت، خواتین کے نکاح ثانی اور مہر کے مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ ماہواری کو عورت کے لیے ایک تکلیف دہ عمل اور ناپاکی بتایا گیا۔ ایک ساتھ تین طلاقوں کے بجائے پاکی کی حالت میں ایک طلاق دینے کا طریقہ بتایا گیا۔ مطلقہ کی عدت تین ماہواریاں، حاملہ کی وضع حمل اور بیوہ کی چار مہینے دس دن اور رضاعت کی مدت دو سال بیان کی گئی۔

پندرھویں رکوع میں واقعاتِ بنی اسرائیل میں سے طالوت اور جالوت کا تذکرہ ہے۔ طالوت کو سموئیل ؑ نے نبی اسرائیل کا حاکم مقرر کیا کہ وہ جالوت سے مقابلہ کرے۔ اس پر اسرائیلیوں نے ان کی غربت اور عام انسان ہونے پر اعتراض کیا کہ ان کی جگہ کسی مالدار اور ذی نسب سردار کو منتخب کیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے جالوت کے مقابلے میں طالوت کو کامیاب فرمایا۔ اسی واقعے کو کفار و مشرکین کے اس اعتراض پر چسپاں کیا گیا کہ نبوت سرداری یا مالداری کی بنیاد پر نہیں بلکہ اللہ کے فضل و انتخاب سے ملتی ہے۔

سورہ البقرہ کے سترھویں رکوع میں آیت الکرسی تلاوت کی گئی جس میں اس کائنات پر حکمرانی، غلبے اور اقتدار اعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ کو قرار دیا گیا۔ اٹھارویں رکوع میں سیدنا ابراہیم ؑ اور نمرود کا واقعہ بیان کی گیا۔ سیدنا ابراہیم ؑ نے نمرود کی حکمرانی کے مقابلے کے طور زندگی، موت اور نظام شمسی کو بطور دلیل پیش کیا جس سے وہ ششدررہ گیا۔ اس رکوع میں سیدنا عزیر ؑ کی سو سالہ نیند اور بیداری کا تذکرہ کرکے بتایا گیا کہ اللہ کے نزدیک تمہاری موت کی مثال اس نیند کی سی ہے وہ جب چاہے تمہیں موت کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔ انیسویں رکوع میں انفاق فی سبیل اللہ کا حکم اور انفاق کی احسان جتلا کر ضائع کرنے سے منع کیا گیا۔ بیسویں رکوع میں سود کی حرمت بیان کرکے اسے تجارت کے مثل ہونے کی نفی کی گئی۔ اکیسویں رکوع میں ادھار کے باہمی لین دین کے معاملات بیان کیے گئے۔ ہدایت دی گئی کہ جب بھی ادھار کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو اور اس پر گواہ بھی مقرر کرلیا کرو تاکہ بعد میں نزاع سے بچا جا سکے۔ سورہ البقرہ کے آخری رکوع کو خواتیم بقرہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس رکوع میں اللہ کی توحید، آخرت، رسالت کے ساتھ ساتھ اللہ سے رحم و مغفرت کی دعائیں سکھائی گئیں ہیں۔

عابد علی جوکھیو سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قرار دیا گیا کیا گیا کہ رکوع میں ا بتایا گیا کی گئی

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی