ایپسٹین فائلز کے آفٹر شاکس اور اسلام کا تصورِ تکمیل
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا میں جب بھی کوئی بڑا واقعہ پیش آتا ہے تو اس کے اثرات صرف سیاسی یا سماجی نہیں ہوتے بلکہ فکری اور نظریاتی سطح پر بھی جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں۔ حالیہ عالمی انکشافات اور اخلاقی بحرانوں نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ انسانیت کی رہنمائی کا اصل اور محفوظ ذریعہ کیا ہے؟ اسی تناظر میں اسلام کے تصورِ تکمیل کو سمجھنا ضروری ہے۔ اسلام کو دنیا کا سب سے جدید مذہب کہنا بظاہر حیران کن لگ سکتا ہے، لیکن اگر ہم تاریخی اور فکری ارتقاء کو دیکھیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے۔ ’’جدید‘‘ سے مراد وقت کے لحاظ سے نیا ہونا نہیں، بلکہ مکمل، محفوظ اور حتمی ہونا ہے۔ اس بات کو ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے: جب 1876 میں گراہم بیل نے ٹیلی فون ایجاد کیا تو وہ انسانی رابطے کا ابتدائی ذریعہ تھا۔ وقت کے ساتھ ٹیکنالوجی ترقی کرتی گئی اور آج وہی تصور جدید ترین شکل میں آئی فون کی صورت ہمارے ہاتھ میں موجود ہے۔ بنیادی مقصد وہی ہے رابطہ لیکن شکل اور تکمیل میں ارتقاء آ چکا ہے۔ اسی طرح ہدایت ِ الٰہی کا سلسلہ بھی تدریجی رہا۔ سیدنا داؤد پر زبور نازل ہوئی، تورات، سیدنا موسیٰؑ پر نازل ہوئی۔ اور سیدنا عیسیٰؑ پر انجیل نازل ہوئی۔ یہ سب اپنی اپنی قوموں اور ادوار کے لیے رہنمائی تھیں۔ آخرکار اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری اور مکمل کتاب قرآن پاک کو اپنے آخری نبی سیدنا محمدؐ پر نازل فرمایا۔ قرآن کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے قیامت تک کے لیے ہدایت قرار دیا گیا، اور اس کی حفاظت کی ذمے داری خود اللہ تعالیٰ نے لی۔ اسی لیے نہ اس میں تحریف ہو سکتی ہے اور نہ اس کے بعد کوئی نئی وحی یا نیا نبی آئے گا۔ یہی ’’حتمیت‘‘ اور ’’تحفظ‘‘ اسے مکمل اور جدید بناتی ہے یعنی ایسا نظامِ حیات جو انسانی ارتقاء کے تمام مراحل کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اور جہاں تک رہنمائی کے عملی نمونے کا تعلق ہے، سیدنا محمدؐ کی سیرت انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہے۔ ایسا معیار جسے قیامت تک کوئی عبور نہیں کر سکتا۔
جامعہ پنجاب کے مشہور پروفیسر وارث میر جو کہ ایک ماہر تعلیم اور صحافی تھے انہوں نے ایک مختصر وصیت تحریر کی جو کچھ یوں تھی ’’میں اپنی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائداد اپنی اہلیہ کے نام منتقل کرتا ہوں اور اپنے بچوں کو تاکید کرتا ہوں وہ اسلام اور پاکستان کی جنگ جاری رکھیں‘‘۔ یہ وصیت 1978 میں لکھی گئی اور اْس وقت تمام بچے اسکول میں پڑھتے تھے لیکن وہ اپنے بچوں سے اسلام اور پاکستان کی جنگ جاری رکھنے کی توقع رکھتے تھے۔ انہی کے صاحبزادے اور ملک کے مشہور صحافی، حامد میر صاحب نے ایک انٹرویو میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ایک اہم سوال کیا۔ سوال کا خلاصہ یہ تھا کہ جنرل پرویز مشرف سے لے کر عمران خان تک مختلف ادوارِ حکومت میں ریاستی اداروں نے آپ پر کرپشن کا کوئی الزام ثابت کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ مولانا فضل الرحمن نے اپنے مخصوص، بزلہ سنج مگر دانشمندانہ انداز میں جواب دیا: ’’میں اْس گلی سے گزرتا ہی نہیں جہاں ایسا کوئی شائبہ ہو‘‘۔ یہ جملہ بظاہر سادہ ہے، مگر اس میں کردار کا وہ پورا فلسفہ پوشیدہ ہے کہ اصل جنگ ہتھیاروں کی نہیں، کردار کی ہوتی ہے۔ اصل وراثت دولت نہیں، اصول ہوتے ہیں۔ اور اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اْس راستے پر چلے ہی نہیں جہاں الزام کا سایہ بھی پڑ سکتا ہو۔ یہ مندرجہ بالا بات ضمنی طور پر آپ کو کالم میں ربط برقرار رکھنے کے لیے لکھی ہے۔
تو آئیے آج کے جدید اور معتبر ذرائع ابلاغ پر ایک سر سری نظر ڈالتے ہیں۔ گزشتہ دنوں میں امریکی محکمہ ٔ انصاف نے ایپسٹین فائلز کے ہزاروں صفحات عوام کے سامنے جاری کیے، جن میں بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ دنیا بھر کے طاقتور لوگوں کے مراسلت اور روابط شامل ہیں۔ ان فائلز کے بے نقاب ہونے کے بعد اعلیٰ سطح کے رہنما، کاروباری سربراہ، اور سفارت کار اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں، یا ان پر تحقیقات جاری ہیں۔ ’’دبئی میں ڈی پی ورلڈ کے چیئرمین اور سی ای او سلطان احمد بن سلیم نے بھی اپنے عہدے سے ہاتھ اٹھا لیا کیونکہ فائلز میں ان کی ایپسٹین کے ساتھ مراسلت سامنے آئی۔ ان کی برطرفی کے بعد کمپنی نے نئی قیادت کا اعلان کیا ہے۔ امریکا کے سب سے بڑے بینک گولڈمین سیکس کی چیف وکیل کیتھی روملر بھی ایپسٹین فائلز کے شائع ہونے کے فوراً بعد استعفا دینے والوں میں شامل ہو گئیں، جنہوں نے پہلے کہا تھا کہ ان کا تعلق صرف پیشہ وارانہ تھا۔ یورپ میں بھی زبردست اثر دیکھا جا رہا ہے۔ فرانس کے اہم ثقافتی ادارے کے سربراہ جیک لینگ نے ٹیکس فراڈ انکوائری اور ایپسٹین کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے استعفا دیا۔ سلوواکیہ کے قومی سلامتی مشیر مِیروسلاو لایچیک نے بھی فائلز میں تعلقات سامنے آنے پر سرکاری عہدہ چھوڑ دیا۔ اسی طرح، سویڈن کی ایک اعلیٰ سفارتی افسر نے اقوامِ متحدہ میں اپنے عہدے سے دستبردار ہو گئی۔ برطانیہ میں لارڈ پیٹر مینڈلسن نے لیبر پارٹی کی رکنیت چھوڑ دی، جبکہ برطانوی وزیر ِاعظم کے چیف آف اسٹاف مورگن مک سویینی نے بھی استعفا دیا۔ ان استعفا دینے والوں میں بہت سے لوگ انکار کرتے ہیں کہ انہوں نے کوئی جرم کیا ہے لیکن عوامی اور سیاسی دباؤ نے انہیں اپنی پوزیشن چھوڑنے پر مجبور کیا ہے تاکہ ان کی تنظیمیں اسکینڈل میں مزید نہ پھنسیں۔ یہ سلسلہ صرف چند ناموں تک محدود نہیں رہا؛ ایپسٹین فائلز نے دنیا بھر میں سیاست، کاروبار، سفارت کاری، اور ثقافتی اداروں میں تہلکہ مچا دیا ہے، اور مستقبل میں اور بھی بڑے استعفے یا تحقیقات سامنے آنے کا امکان ہے۔
ایپسٹین فائلز نے دنیا کے طاقتور حلقوں میں موجود روابط، مراسلات اور ذاتی تعلقات کو بے نقاب کیا ہے۔ بہت سی شخصیات نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ایپسٹین کے ساتھ صرف پیشہ ورانہ یا رسمی تعلق تھا، لیکن عوامی دباؤ، میڈیا کی چھان بین، سیاسی تنقید، اور تنظیموں کی ساکھ کے تحفظ کے لیے انہوں نے استعفا دینے کو ترجیح دی۔ ایپسٹین فائلز کا افشا صرف ایک قانونی معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی سطح کا سماجی اور سیاسی زلزلہ ہیں۔ ان نے دنیا بھر میں طاقتور شخصیات کے عہدوں اور ساکھوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور بہت سی بڑی تبدیلیوں کا باعث بن رہے ہیں۔ ان فائلز کے سامنے آنے کے بعد استعفے، برطرفیاں، تحقیقات اور عوامی مہمات نے ثابت کر دیا ہے کہ دنیا آج شفافیت اور احتساب کی نئی ضرورت کا سامنا کر رہی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں، ہفتوں اور مہینوں میں مزید نمایاں ہوں گے۔ اس طرح آگے چل کر پاکستان کی شخصیات کا نام بھی ان فائلز میں آ یا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ فائلز میں نام آنا الزام یا جرم کا ثبوت نہیں ہوتا۔ صرف دستاویزات میں نام کا ذکر ہوتا ہے، جو بہت سے عوامی اور نجی شخصیات کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسلام صرف ایک مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات ہے عقیدہ، اخلاق، معاشرت، معیشت اور عدل کا جامع نظام۔ اسی لیے اسے ’’دین‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی زندگی گزارنے کا مکمل طریقہ ہے اور آنے والے وقت کے لیے بھی مشعل راہ ہے۔ اسی لیے کلام الٰہی میں پہلے ہی متنبہ کیا گیا ہے کہ: ’’اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک یہ بہت بڑی فحاشی اور بری راہ ہے‘‘۔ (سورہ الاسراء:32)یہ آیت واضح طور پر کہتی ہے کہ صرف گناہ نہ کرنا کافی نہیں، بلکہ اس کے قریب جانا بھی منع ہے کیونکہ قربت انسان کو گناہ کی طرف لے جا سکتی ہے۔
امیر محمد کلوڑ
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایپسٹین کے ساتھ ایپسٹین فائلز فائلز میں فائلز کے کے بعد کے لیے کیا ہے
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔