وفاقی سرکاری اداروں کیلیے رمضان کے اوقاتِ کار تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260219-08-15
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت کے ماتحت سرکاری اداروں کے لیے رمضان المبارک کے اوقاتِ کار جاری کردیے گئے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے مطابق ہفتے میں 5 دن کھلنے والے دفاتر کے اوقاتِ کار صبح 9 بجے سے دوپہر 3 بجے تک ہوں گے۔ ہفتے میں 6 دن کام کرنے والے دفاتر صبح 9 بجے سے 2 بجے تک کام کریں گے جبکہ جمعے کے روز سرکاری دفاتر کے اوقاتِ کار صبح 9 بجے سے ساڑھے 12 بجے تک مقرر کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں سندھ حکومت نے رمضان المبارک کے دوران سرکاری دفاتر کے اوقات کار سے متعلق باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے مطابق پیر سے جمعرات تک دفاتر کا وقت صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک مقرر کیا گیا ہے جب کہ جمعے کے روز سرکاری دفاتر صبح 10 بجے سے دوپہر 1 بجے تک کھلے رہیں گے۔صوبائی حکومت کے مطابق یہ اوقات سندھ حکومت کے تمام سرکاری، خودمختار، نجی اداروں اور لوکل کونسلز پر لاگو ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔