لاہور ہائیکورٹ، وفاقی حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا میکنزم طلب
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
لاہور(خبر نگار )لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا میکنزم طلب کرلیا۔لاہور ہائیکورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف دائر متفرق درخواست پر سماعت ہوئی۔کیس کی سماعت جسٹس خالد اسحاق نے کی ۔ عدالت نے درخواست قابل سماعت ہونے پر وفاقی حکومت سمیت دیگر متعلقہ فریقین سے جواب طلب کر لیا۔سماعت کے دوران عدالت نے حکومت پاکستان کو ہدایت کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا مکمل میکنزم بھی عدالت میں پیش کیا جائے، تاکہ قیمتوں میں حالیہ اضافے کی وجوہات اور طریقہ کار کا جائزہ لیا جا سکے۔ یہ درخواست جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔