رمضان سے قبل اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں تیزی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (کامرس ڈیسک) کاروباری رہنما اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ رمضان سے قبل اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہیجبکہ کئی شہروں میں دکاندار سرکاری طور پر جاری کردہ نرخ ناموں کو نظرانداز کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھجور، کوکنگ آئل، بیسن، چینی، پھلوں اور سبزیوں کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر قیمتوں پر عملدرآمد کے نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کر رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ صوبائی پرائس کنٹرول قوانین کے تحت ضلعی انتظامیہ کو جرمانے عائد کرنے، دکانیں سیل کرنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم عملی کارروائی زیادہ تر زبانی جمع خرچ تک محدود رہتی ہے۔ شاہد رشید بٹ نے خبردار کیا کہ اگر خوردہ سطح پر قیمتوں میں بے قابو اضافہ جاری رہا تو حکومت کی جانب سے دی جانے والی براہ راست نقد امداد مہنگائی کے اثرات کو مکمل طور پر کم نہیں کر سکے گی اور کمزور طبقوں کو مطلوبہ ریلیف نہیں مل پائے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وہ خاندان جو اپنی آمدنی کا 40 فیصد سے زائد حصہ اشیائے خورونوش پر خرچ کرتے ہیں زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ ہر سال افطار کی بنیادی اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں جس سے پہلے ہی محدود گھریلو بجٹ مزید دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رمضان کے دوران نگرانی کے عمل کو تیز کیا جائے گا اور شفافیت بڑھانے کے لیے روزانہ نرخ نامے جاری کیے جائیں گے۔ تاہم ان اقدامات کی کامیابی کا انحصار مسلسل عملدرآمد اور بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی پر ہوگا۔پائیدار ریلیف کے لیے تھوک منڈیوں میں سخت نگرانی، عملدرآمد کے اعداد و شمار کی شفاف اشاعت اور منافع خوری کے خلاف فوری کارروائی ضروری ہے۔ مؤثر نفاذ کے بغیر مہنگائی بے قابو ہوتی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔