Jasarat News:
2026-06-02@22:48:37 GMT

رمضان سے قبل اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں تیزی

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (کامرس ڈیسک) کاروباری رہنما اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ رمضان سے قبل اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہیجبکہ کئی شہروں میں دکاندار سرکاری طور پر جاری کردہ نرخ ناموں کو نظرانداز کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھجور، کوکنگ آئل، بیسن، چینی، پھلوں اور سبزیوں کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر قیمتوں پر عملدرآمد کے نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کر رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ صوبائی پرائس کنٹرول قوانین کے تحت ضلعی انتظامیہ کو جرمانے عائد کرنے، دکانیں سیل کرنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم عملی کارروائی زیادہ تر زبانی جمع خرچ تک محدود رہتی ہے۔ شاہد رشید بٹ نے خبردار کیا کہ اگر خوردہ سطح پر قیمتوں میں بے قابو اضافہ جاری رہا تو حکومت کی جانب سے دی جانے والی براہ راست نقد امداد مہنگائی کے اثرات کو مکمل طور پر کم نہیں کر سکے گی اور کمزور طبقوں کو مطلوبہ ریلیف نہیں مل پائے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وہ خاندان جو اپنی آمدنی کا 40 فیصد سے زائد حصہ اشیائے خورونوش پر خرچ کرتے ہیں زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ ہر سال افطار کی بنیادی اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں جس سے پہلے ہی محدود گھریلو بجٹ مزید دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رمضان کے دوران نگرانی کے عمل کو تیز کیا جائے گا اور شفافیت بڑھانے کے لیے روزانہ نرخ نامے جاری کیے جائیں گے۔ تاہم ان اقدامات کی کامیابی کا انحصار مسلسل عملدرآمد اور بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی پر ہوگا۔پائیدار ریلیف کے لیے تھوک منڈیوں میں سخت نگرانی، عملدرآمد کے اعداد و شمار کی شفاف اشاعت اور منافع خوری کے خلاف فوری کارروائی ضروری ہے۔ مؤثر نفاذ کے بغیر مہنگائی بے قابو ہوتی جائے گی۔

کامرس ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا