پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ خان نے وی نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک اِنصاف کی سیاست نہ تو کسی نظریے اور نہ عوامی مفادات پر مبنی ہے۔ اُس کا صرف ایک ہدف ہے کہ عمران خان جیل سے باہر آ کر ایک بار پھر وزیراعظم بن جائیں۔ جب آپ کی سیاست کا ہدف اِتنا محدود ہو جائے تو زیادہ عرصہ نہیں چل سکتا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اِن کی سیاست ختم ہو جائے گی لیکن اِن کی سیاست کا نتیجہ مجھے زیادہ اچھا دِکھائی نہیں دیتا۔عمران خان کی طرزِ سیاست سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو پہنچا۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی ملک میں افراتفری اور انتشار پھیلانا چاہتی ہے، رانا ثنااللہ

رانا ثنا اللہ کا بیان کہ عمران خان ڈیل پر راضی نہیں، پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ عمران خان جو ڈیل مانگ رہے ہیں وہ اُنہیں مل نہیں سکتی۔ یہ فیصلہ پی ٹی آئی نے کرنا ہے کہ اُن کی سیاست کس طرح کی ہوگی، اگر وہ یہ سمجھتے ہیں اُنہیں اس طرزِ سیاست سے فائدہ ہوتا ہے تو لگے رہیں۔

مریم نواز کی کارکردگی کے چرچے

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی کے چرچے پورے پاکستان میں ہیں۔ میں کراچی جاتا ہوں تو لوگ مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ اگر پنجاب کے دیہی علاقوں میں ترقیاتی کام ہو سکتے ہیں تو یہاں کیوں نہیں ہو سکتے۔ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح کی تبدیلی مریم نواز شریف پنجاب میں لے کر آئی ہیں اُس طرح کی تبدیلی پورے پاکستان میں آئے اور ان شاء اللہ وہ آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی قیادت، رشتے دار اور سوشل میڈیا کے جہادی عمران خان کی رہائی نہیں چاہتے، خواجہ آصف

تحریک انصاف نے مظلومیت کا بیانیہ 2024 کے انتخابات میں بیچ لیا ہے جب اِن کو ایک تو مظلومیت کا ووٹ پڑا اور دوسرا اُس وقت جو مہنگائی کی صورتحال تھی تو اُس کا نقصان برسرِاقتدار جماعت کو ہوتا ہے۔ لیکن آئندہ مظلومیت بِکے گی نہ اب وہ معاشی عدم استحکام کی صورتحال ہے جو پاکستان تحریکِ انصاف کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی جب مُلک ڈیفالٹ کی طرف جا رہا تھا۔ہری پور کے ضمنی انتخابات اور اُن کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ لوگ پاکستان تحریک انصاف کی دھرنا اور احتجاجی سیاست سے بیزار ہو چُکے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ایک ایسا وقت آئے جب احتساب کا عمل سب کے لئے یکساں ہو اور سیاسی معاملات سے دور ہو۔

ہرزہ سرائی کا موجب مقدمات کیوں بنائے جاتے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ اِس ملک میں سیاستدانوں کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے جاتے ہیں اور اِس بات کی بہت بڑی تاریخ موجود ہے بلکہ بہت سارے لوگوں نے یہ بات بھی کہ نیب کو سیاسی انجینئرنگ کے لیے بنایا گیا۔ لیکن بات یہ ہے کہ خان صاحب کے خلاف توشہ خانہ ون اینڈ ٹو اور القادر ٹرسٹ اوپن اینڈ شٹ یعنی واضح کیسز ہیں۔ یہ بات ضرور ہے کہ ہو سکتا ہے سیاست میں آنے کے بعد یہ اپنے کیسز ختم کروا لیں جبکہ یہ سب کو چور کہتے رہے۔ لیکن اس ملک کی تاریخ دیکھیں تو معاملات آگے پیچھے ہو جاتے ہیں کسی چیز کو آپ خارج از امکان قرار نہیں دے سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:محسن نقوی عمران خان کی رہائی چاہتے تھے، بانی کا سنگجانی پر رکنے کا حکم نہ مان کر ہم تباہ ہوگئے، علی امین گنڈاپور

سیاسی انجینئرنگ والے مقدمات دوسرے ہوتے ہیں وہ مجھ پر بھی بنے، میرے والد صاحب پر بھی بنتے رہے۔ ہمیں اِس بات کا اندازہ ہے کہ ایسے کیسز کیا ہوتے ہیں۔ اُن مقدمات کے اندر اگر کچھ نہ ہو تو وقت کے ساتھ وہ ختم ہو جاتے ہیں۔ جعلی مقدمات کے خاتمے کے لیے نیب اور ایف بی آر کا کردار ختم کرنا پڑے گا۔ آپ ایک سسٹم کے اندر سے 4 اچھی چیزیں کر رہے ہیں اور 50 بری چیزیں کر رہے ہیں تو لوگوں کے لیے فرق کرنا مُشکل ہو جاتا ہے کہ اب ٹھیک ہو رہا ہے کہ غلط ہو رہا ہے۔

میرے والد مشاہد اللہ خان کو اللہ نے بہت بصیرت سے نوازا تھا

18 فروری اپنے والد کے یومِ وفات کو یاد کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا اللہ نے اُنہیں بڑی بصیرت سے نوازا تھا۔ وہ کئی ایسی باتیں کر جاتے تھے کہ لوگ کہتے تھے کہ ایسا نہیں ہو سکتا اور بعد میں ایسا ہی ہوتا تھا۔ ایسا ہی کلپ اُن کا وائرل ہو گیا جس میں وہ پی ٹی آئی کے رونے کی پیشگوئی کر رہے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ میری سیاسی تربیت میں میرے والد کا بہت بڑا کردار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ٹی آئی تحریک انصاف سینیٹر افنان سینیٹر افنان اللہ خان عمران خان مریم نواز مشاہد اللہ خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی تحریک انصاف سینیٹر افنان سینیٹر افنان اللہ خان مریم نواز مشاہد اللہ خان سینیٹر افنان اللہ خان مریم نواز پی ٹی ا ئی نے کہا کہ جاتے ہیں کی سیاست تحریک ا کے لیے ہیں کہ ا نہیں

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان