مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے، پارٹی قیادت دست و گریباں
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
آزاد کشمیر میں انتخابات سے چند ماہ قبل پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور پارٹی قیادت نے ایک دوسرے کے خلاف محاذ کھول لیا ہے۔
سابق وزیرِ حکومت اور مسلم لیگ ن کے سیکریٹری اطلاعات افتخار گیلانی نے واضح کیا ہے کہ بدھ کو سنٹرل پریس کلب مظفرآباد میں بعض ممبرانِ اسمبلی کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس کا پاکستان مسلم لیگ ن آزاد جموں و کشمیر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
افتخار گیلانی نے کہا کہ مسلم لیگ ن آزاد جموں و کشمیر پی ٹی آئی یا اس کے منحرف اراکین کے ساتھ حکومت مخالف سرگرمیوں میں شامل نہیں ہوگی۔
ان کے بقول مسلم لیگ ن انتشار یا سیاسی عدم استحکام کو برداشت نہیں کرے گی اور کسی بھی ایسے اقدام کو برداشت نہیں کرے گی جو علاقے میں سیاسی بحران کا سبب بنے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی ایسے انتشاری عناصر کے ساتھ کوئی تعلق رکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ مسلم لیگ ن آزاد جموں و کشمیر قائد محمد نواز شریف کی رہنمائی میں آئندہ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے حکومت بنانے کی راہ پر گامزن ہے۔
’آزاد کشمیر میں نیا وزیراعظم آنے والا ہے‘قبل ازیں صدر مسلم لیگ ن شاہ غلام قادر اور راجا فاروق حیدر نے اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ آزاد کشمیر میں نیا وزیراعظم آنے والا ہے۔
شاہ غلام قادر نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کے پاس واضح اکثریت نہیں ہے اور اگر ان کا رویہ درست نہ ہوا تو عدم اعتماد کی تحریک لائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کا دور قریب ہے، اس لیے فی الحال ہم نظر انداز کر رہے ہیں، اور خیال تھا کہ موجودہ حکومت انتخابات تک ایک عارضی انتظام کے طور پر رہے گی۔ تاہم پانچویں وزیراعظم کے آنے کی پیش گوئی حقیقت بنتی نظر آ رہی ہے۔
’ شاہ غلام قادر اور فاروق حیدر کی پریس کانفرنس پر سوالات ‘دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل طارق فاروق نے بھی شاہ غلام قادر اور فاروق حیدر کی اپوزیشن ممبران کے ساتھ پریس کانفرنس پر سوالات اٹھا دیے۔
سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر ایک منظم، نظریاتی اور جمہوری سیاسی جماعت ہے جس کے تمام اہم سیاسی فیصلے اور پالیسی معاملات ہمیشہ جماعت کے پالیسی ساز اداروں کی اجتماعی مشاورت کے ذریعے طے ہونے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال اور متحدہ اپوزیشن کی آج کی پریس کانفرنس کے تناظر میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ایسے حساس اور اہم معاملات، جو جماعتی حکمتِ عملی، سیاسی مؤقف اور کارکنان کے اعتماد سے براہِ راست وابستہ ہوں، انہیں جماعت کے مرکزی صدر نواز شریف، شہباز شریف، مرکزی متعلقہ فورمز، مرکزی سیاسی کمیٹی، مرکزی عہدیداران یا مجلسِ عاملہ میں زیرِ بحث لانا ہی تنظیمی نظم و ضبط اور جمہوری روایت کا تقاضا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان مسلم لیگ مسلم لیگ ن آزاد شاہ غلام قادر پریس کانفرنس انہوں نے کے ساتھ کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ