مقبوضہ کشمیر کے ترقیاتی فنڈز اتر پردیش منتقل، بی جے پی پر مزید سوال اٹھ گئے
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مقبوضہ جموں و کشمیر کے ترقیاتی فنڈز کی منتقلی کے معاملے نے ہندو انتہا پسند بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی پر مزید سوال اٹھا دیے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ غلام علی کھٹانہ پر الزام ہے کہ انہوں نے مختص ترقیاتی رقوم کا بڑا حصہ بھارتی ریاست اترپردیش میں خرچ کیا، جس پر مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سخت ردعمل دیا ہے۔
عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے لیے مختص 11.
انہوں نے اس اقدام کو دوغلی پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو نمائندے کشمیر سے منتخب ہوتے ہیں، انہیں مقامی مسائل اور ضروریات کو ترجیح دینی چاہیے نہ کہ دیگر ریاستوں کو۔
مبصرین کے مطابق مقبوضہ کشمیر پہلے ہی معاشی دباؤ، بنیادی ڈھانچے کی کمی اور بے روزگاری جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے میں ترقیاتی فنڈز کی بیرونِ خطہ منتقلی مزید سوالات کو جنم دیتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ طرزِ عمل مقامی آبادی کے اعتماد کو مجروح کر سکتا ہے۔
سیاسی حلقوں میں اس معاملے کو بی جے پی کی کشمیر پالیسی سے جوڑ کر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ خطے میں ترقی کے دعووں کے برعکس زمینی حقائق مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
دوسری جانب بی جے پی کی جانب سے تاحال ان الزامات پر تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ صورتحال نے مقبوضہ کشمیر کے وسائل اور حقوق سے متعلق نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جو آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مقبوضہ کشمیر کے بی جے پی
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔