ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کی افتتاحی تقریب، امریکی میزبانی میں خطیر فنڈ کے اعلان کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ’بورڈ آف پیس‘ کے افتتاحی اجلاس کی آج میزبانی کریں گے، جس کا مرکزی محور غزہ کی تباہ حال صورتحال، تعمیرِ نو کا جامع خاکہ اور ممکنہ مالی وسائل کی فراہمی ہوگا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ مہینوں میں جاری شدید اور مسلسل اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ کی پٹی بڑے پیمانے پر تباہی، بنیادی ڈھانچے کی بربادی اور انسانی بحران کا شکار ہو چکی ہے، جس کے بعد عالمی برادری پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق تقریباً 50 ممالک کو اس فورم میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ 35 ممالک نے دلچسپی ظاہر کی جبکہ 26 ممالک باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کر کے بانی ارکان کا درجہ حاصل کر چکے ہیں، تاہم 14 ممالک نے دعوت قبول نہیں کی، جس سے اس فورم کی نمائندگی اور اثر پذیری سے متعلق سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق کچھ ممالک کو خدشہ ہے کہ یہ اقدام حقیقی جنگ بندی کے بجائے سیاسی بیانیے کو تقویت دینے کا ذریعہ نہ بن جائے۔
اطلاعات ہیں کہ اجلاس کے دوران امریکا اور اس کے شراکت دار غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 5 ارب ڈالر کے مشترکہ فنڈ کے قیام کا اعلان کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک مجوزہ ’انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس‘ کی تشکیل پر بھی غور متوقع ہے، جس کا مقصد غزہ میں سیکورٹی، امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے عمل کو یقینی بنانا بتایا جا رہا ہے، تاہم فلسطینی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی فورس کی تعیناتی مقامی خودمختاری اور سیاسی مستقبل پر کس حد تک اثرانداز ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ کی حقیقی بحالی صرف مالی امداد سے ممکن نہیں بلکہ پائیدار جنگ بندی، محاصرہ ختم کرنے اور سیاسی حل کی ضمانت بھی ناگزیر ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ امدادی اقدامات کے ساتھ ساتھ شہریوں کے تحفظ اور بنیادی حقوق کی بحالی کو بھی ترجیح دی جائے۔ آج کا اجلاس اس اعتبار سے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ آیا عالمی طاقتیں محض اعلانات تک محدود رہیں گی یا عملی پیش رفت کی کوئی واضح سمت بھی سامنے آئے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غزہ کی
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن نے کے پی کے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے پر کام شروع کر دیا، صوبے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن رواں ماہ کے آخر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کا حتمی فیصلہ کرے گا، بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ اور جون 2026 میں مکمل ہو چکی ہے۔
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں الیکشنز کروانے کے لیے تیار ہے، اناضلاع میں بلدیاتی الیکشنز کی تاریخ سے متعلق سمری تاحال خیبر پختونخوا کابینہ میں زیر التوا ہے۔ کے پی کابینہ کے کل کے اجلاس میں سمری سے متعقل فیصلہ متوقع ہے، چیف سیکرٹری کے پی کے 28 جولائی تک الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گے۔