2026 ورلڈ کپ کے تمام 104 میچز فروخت، فیفا صدر کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے دعویٰ کیا ہے کہ 2026 فٹبال ورلڈ کپ کے تمام 104 میچز فروخت ہو چکے ہیں، حالانکہ ایونٹ کے آغاز (11 جون) سے قبل اب بھی ٹکٹس دستیاب ہیں۔
مزید پڑھیں: فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کا جلد پاکستان کے دورے کا اعلان
انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ 4 ہفتوں میں قریباً 7 ملین دستیاب ٹکٹس کے لیے 508 ملین درخواستیں موصول ہوئیں، جبکہ جنوری میں مرکزی فروخت کے مرحلے کے دوران 200 سے زائد ممالک سے درخواستیں آئیں۔
انفانٹینو، جو امریکی صدر ٹرمپ کی رہائش گاہ سے گفتگو کر رہے تھے، کا کہنا تھا کہ کچھ ٹکٹس اپریل میں شروع ہونے والے آخری فروختی مرحلے کے لیے محفوظ رکھے گئے ہیں، جو 19 جولائی تک جاری رہے گا۔
The @FIFAWWC 2027 is 500 days away! ????
The moment Brazil were announced as hosts… ???????? pic.
— FIFA (@FIFAcom) February 9, 2026
ٹکٹوں کی بلند قیمتوں پر تنقید کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے اس ورلڈ کپ میں ’ڈائنامک پرائسنگ‘ نظام رائج ہے، جس کے تحت قیمتیں طلب کے مطابق بڑھ یا گھٹ سکتی ہیں، جبکہ سرکاری پلیٹ فارمز پر ری سیل کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
مزید پڑھیں: فیفا صدر جیانی انفانٹینو سے ملاقات، ارشد ندیم عالمی اسپورٹس آئیکون بن گئے
فیفا صدر کے مطابق 48 ٹیموں پر مشتمل پہلا ورلڈ کپ فیفا کو 11 ارب ڈالر سے زائد آمدن دے سکتا ہے، جسے تنظیم کے 211 رکن ممالک میں فٹبال کے فروغ پر خرچ کیا جائے گا۔ انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ ٹورنامنٹ سے امریکی معیشت کو قریباً 30 ارب ڈالر کا فائدہ ہوگا، جبکہ 1 لاکھ 85 ہزار فل ٹائم ملازمتیں پیدا ہوں گی اور 20 سے 30 ملین سیاح متوقع ہیں۔
انفانٹینو نے کہا کہ ورلڈ کپ کا اثر صرف ایونٹ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مستقبل میں بھی اس کے مثبت معاشی اثرات جاری رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی فیفا صدر فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی فیفا صدر فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو صدر جیانی انفانٹینو فیفا صدر ورلڈ کپ
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔