data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لندن: برطانیہ میں جدید نیوی گیشن سسٹم پر اندھا اعتماد ایک ڈرائیور کے لیے غیر متوقع مصیبت بن گیا جب ایمازون کی ڈیلیوری وین دلدلی علاقے میں پھنس گئی۔

واقعہ چند روز قبل صبح کے وقت پیش آیا جب ڈرائیور جی پی ایس کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے فاؤلنیس آئی لینڈ پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر راستے کی غلط رہنمائی نے اسے ایسیکس کے علاقے گریٹ ویکرنگ میں واقع تاریخی راستے ’دی بروم وے‘ تک پہنچا دیا۔

یہ قدیم راستہ تقریباً 600 برس پرانا اور لگ بھگ 6 میل طویل ہے، جو بنیادی طور پر پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص سمجھا جاتا ہے۔

ایچ ایم کوسٹ گارڈ ساؤتھ اینڈ آن سی کے مطابق انہیں ٹیمز ایسچوئری کے قریب اس ہنگامی صورتحال کی اطلاع ملی۔ حکام کا کہنا ہے کہ بروم وے نہ صرف دلدلی اور خطرناک ہے بلکہ یہ علاقہ وزارتِ دفاع کی ملکیت بھی ہے جہاں شوٹنگ رینج فعال رہتی ہے۔

یہاں داخلے کی اجازت مخصوص اوقات میں اور واضح حفاظتی ہدایات کے تحت دی جاتی ہے۔ کوسٹ گارڈ نے واضح کیا کہ یہ راستہ گاڑیوں کے لیے موزوں نہیں اور بغیر مقامی گائیڈ کے یہاں آنا شدید خطرات کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق وین چند ہی لمحوں میں نرم زمین میں دھنس گئی، جس کے بعد ڈرائیور کو گاڑی چھوڑ کر محفوظ مقام تک پہنچنا پڑا۔ اس نے فوری طور پر کمپنی کو صورتحال سے آگاہ کیا۔

بعد ازاں امدادی ٹیموں کی مدد سے گاڑی کو نکال لیا گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا جدید جی پی ایس سسٹمز پر مکمل انحصار محفوظ ہے، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں قدرتی اور عسکری حدود واضح ہوں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیوی گیشن ایپس مفید ضرور ہیں مگر مقامی انتباہی بورڈز، زمینی حقائق اور حفاظتی ضوابط کو نظرانداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ واقعہ تیزی سے وائرل ہوا اور صارفین نے ٹیکنالوجی کے استعمال میں احتیاط کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ جدید سہولتیں انسان کی رہنمائی تو کر سکتی ہیں، مگر حتمی فیصلہ اور ذمہ داری اب بھی ڈرائیور ہی پر عائد ہوتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی

لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔

سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔

ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔

شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی