سُپر 8 مرحلے میں پاکستان کا کب اور کن ٹیموں سے مقابلہ ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ میں نمیبیا کے خلاف شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے پاکستان کرکٹ ٹیم نے سپر ایٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا ہے۔
پاکستان نے اپنے آخری گروپ اے کے میچ میں نمیبیا کو 102 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دے کر سپر ایٹ مرحلے میں رسائی حاصل کی، گرین شرٹس کی نمیبیا کے خلاف شاندار فتح کے بعد سپر ایٹ مرحلے کی تمام 8 ٹیمیں فائنل ہوگئیں۔
گروپ اے سے پاکستان اور بھارت، گروپ بی سے سری لنکا اور زمبابوے، گروپ سی سے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ جب کہ گروپ ڈی سے جنوبی افریقا اور نیوزی لینڈ نے اگلے مرحلے میں جگہ بنائی۔
Cannot wait ???? pic.
— ESPNcricinfo (@ESPNcricinfo) February 18, 2026
سپر 8 مرحلے میں پاکستان کو سخت مقابلوں کا سامنا ہوگا، جہاں اس کا پہلا میچ 21 فروری کو نیوزی لینڈ کے خلاف ہوگا، قومی ٹیم اپنا دوسرا میچ 24 فروری کو انگلینڈ سے کھیلے گی جب کہ تیسرے اور آخری مقابلے میں 28 فروری کو پاکستان کا سامنا سری لنکا سے ہوگا۔
یہ تمام ٹیمیں سپر 8 کے اسی گروپ میں شامل ہیں، جس کے باعث مقابلہ انتہائی سنسنی خیز ہونے کی توقع ہے جب کہ سپر ایٹ کے پہلے گروپ میں بھارت، جنوبی افریقا، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے شامل ہیں۔
ٹورنامنٹ کے اگلے مرحلے میں رسائی کے لیے تمام ٹیموں کے درمیان سخت مقابلے متوقع ہیں جب کہ شائقین کرکٹ کی نظریں پاکستان کی کارکردگی پر مرکوز ہیں۔
پاکستان کو ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک پہنچنے کے لیے اپنے تین مقابلوں میں سے کم سے کم دو مقابلے جتنے ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔