ناکام ورلڈ کپ مہم پر پونٹنگ نے آسٹریلوی ٹیم کو آڑے ہاتھوں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
آئی سی سی ہال آف فیم کرکٹر رکی پونٹنگ نے آسٹریلیا کی ’’انتہائی خراب‘‘ مہم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم نے صرف 3 میچز میں سے ایک جیتا اور سپر ایٹ فیز تک پہنچنے کے امکانات ختم ہوئے۔
سابق آسٹریلوی کپتان نے انجرڈ کھلاڑیوں اور ابتدائی ناقص کارکردگی کو ناکامی کی بڑی وجہ قرار دیا۔
پونٹنگ نے کہا کہ زمبابوے کے خلاف غیر متوقع شکست اور سری لنکا کے خلاف میچ میں آخری اوورز میں چھ وکٹیں گرنا ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔
انہوں نے حالیہ ٹیم کے مقابلے میں ماضی کی آسٹریلوی ٹیموں میں ’’رویہ اور تجربے‘‘ کی کمی کی نشاندہی بھی کی۔
مستقبل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگلے ٹی20 ورلڈ کپ 2028 میں چند موجودہ کھلاڑی جیسے مِچل مارش، ٹریوس ہیڈ اور جاش انگلس شامل ہو سکتے ہیں جبکہ گلین میکسویل اور مارکس اسٹوئنس کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔
رکی پونٹنگ کا کہنا تھا کہ آئی سی سی ٹرافیاں جیتنا کسی بھی آسٹریلوی کرکٹر کے لیے اعلیٰ ترین مقصد ہونا چاہیے اور موجودہ ٹیم کو اپنی غلطیوں کا سامنا کرنا ہوگا تاکہ آئندہ کامیابی حاصل کی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا سٹریلوی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔