میاں نواز شریف 23 فروری کو آزاد کشمیر کا دو روزہ دورہ کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
دورے میں موجودہ سیاسی صورتحال، تنظیمی امور اور آئندہ انتخابات کی حکمت عملی پر پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کی جائے گی، آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے لیے ٹکٹ کے درخواست دہندگان سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ذرائع کے مطابق وہ 23 فروری کو مظفرآباد پہنچیں گے اور 24 فروری کو اپنے دورے کا اختتام کر کے واپس روانہ ہوں گے۔ دورے کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی نواز شریف کے ہمراہ ہوں گی، نواز شریف آزاد کشمیر کی پارٹی قیادت اور کارکنان سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جن میں صدر نواز لیگ آزاد کشمیر شاہ غلام قادر اور پارلیمانی لیڈر راجہ فاروق حیدر خان سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں سے ملاقات شامل ہے۔ دورے میں موجودہ سیاسی صورتحال، تنظیمی امور اور آئندہ انتخابات کی حکمت عملی پر پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کی جائے گی، آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے لیے ٹکٹ کے درخواست دہندگان سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ وفاقی وزیر امور کشمیر انجینیئر امیر مقام نے نواز شریف کے دورے کی تصدیق کر دی ہے، نواز شریف مظفرآباد میں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کی رہائش گاہ بھی جائیں گے۔ دورے کے دوران نواز لیگ کی انتخابی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز ہوگا اور پارٹی رہنماؤں کو آئندہ لائحہ عمل سے متعلق ہدایات جاری کی جائیں گی، آزاد کشمیر کے چند انتخابی حلقوں کے ٹکٹ بھی اس موقع پر فائنل کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سے قبل میاں نواز شریف کا مظفرآباد دورہ شیڈول ہونے کے بعد ملتوی ہو چکا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پارٹی رہنماؤں نواز شریف
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔