وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ضرورت مند خاندانوں کی مالی مدد کے لیے پروگرام ’مریم کو بتائیں ہیلپ لائن 1000‘ یکم رمضان المبارک سے فعال کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت مالی مشکلات میں مبتلا افراد 1000 پر کال کرکے آئندہ 24 گھنٹے کے اندر 10 ہزار روپے تک کی امداد حاصل کر سکیں گے۔

مزید پڑھیں:امریکی سفارتخانے کی جانب سے رمضان المبارک کی مبارکباد، امن اور انسانیت کے فروغ کا پیغام

10 ہزار روپے میں کیا راشن خریدا جا سکتا ہے اور یہ 5 افراد پر مشتمل فیملی کتنے دنوں تک کھا سکتی ہے؟

گھریلو سطح پر سادہ مگر مکمل افطاری کے لیے مختلف اشیا کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔ 10 ہزار روپے کے بجٹ میں 800 گرام کھجور، 1600 ایم ایل شربت، دال مسور 2 کلو، کوکنگ آئل 4 کلو، بیسن 2 کلو، چاول 4 کلو، چینی 4 کلو، سویاں 2 پیکٹ، چائے 300 گرام، نمک ڈیڑھ کلو، دال چنا 2 کلو، سفید چنا 2 کلو، آٹا 10 کلو، چاٹ مصالحہ اور سرخ مرچ 300 گرام حاصل کی جا سکتی ہے۔

گھریلو معیشت کے ماہرین کے مطابق اگر 5 افراد پر مشتمل ایک خاندان ان اشیا کو مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کرے یعنی روزانہ محدود مقدار میں شربت، سادہ پکوڑیاں اور ہلکی غذائیں کھائیں تو یہ سامان 10 سے 12 دن کی افطاری کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر افطاری میں تنوع بڑھایا جائے، مہمانوں کی آمد ہو یا اشیا کا ضیاع زیادہ ہو تو یہی سامان 7 سے 9 دن میں بھی ختم ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: رمضان المبارک کے آغاز  پر امریکی صدر ٹرمپ کا مسلمانوں کے نام پیغام

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں 10 ہزار روپے جیسی خطیر رقم کے باوجود افطاری کا سامان صرف چند دنوں تک محدود رہ جانا مہنگائی کی واضح علامت ہے۔ ان کے مطابق سادہ افطاری، ضیاع سے پرہیز اور بہتر گھریلو منصوبہ بندی ہی وہ عوامل ہیں جو اس محدود بجٹ کو زیادہ دنوں تک کارآمد بنا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

10 ہزار روپے افطاری پنجاب حکومت رمضان المبارک وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 10 ہزار روپے افطاری پنجاب حکومت رمضان المبارک وزیراعلی پنجاب مریم نواز رمضان المبارک ہزار روپے سکتا ہے کے لیے

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور