آج بھی کم عمری میں شادی کے فیصلے پر افسوس ہے: نازلی نصر
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ معروف سینئر اداکارہ نازلی نصر نے کم عمری میں شادی کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا قرار دے دیا۔
حال ہی میں نازلی نصر نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں بطور مہمان شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی، کیریئر، محبت اور وفاداری پر کھل کر گفتگو کی۔
ان کا کہنا ہے کہ پہلی شادی کے تلخ تجربے کے بعد میری دوسری شادی نے مجھے یہ سکھایا کہ دنیا میں آج بھی سچی محبت اور وفاداری موجود ہے۔
اداکارہ نے کہا کہ موجودہ شوہر محسن طلعت کی زندگی میں آمد نے مجھے محبت پر دوبارہ یقین دلایا۔
گفتگو کے دوران اداکارہ نے اپنی زندگی کے سب سے بڑے پچھتاوے کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ کم عمری میں شادی کا فیصلہ درست نہیں تھا اور میں آج بھی اپنے اس فیصلے پر افسوس کرتی ہوں۔
نازلی نصر نے کہا کہ اگر مجھے آج کے شعور کے ساتھ ماضی میں واپس جانے کا موقع ملے تو میں کبھی اتنی جلدی شادی نہ کروں۔
ان کے خیال میں خواتین کو 28 یا 29 برس کی عمر میں شادی کا فیصلہ کرنا چاہیے اور یہی وہ بات ہے جس پر انہیں سب سے زیادہ ندامت ہے۔
واضح رہے کہ نازلی نصر نے پی ٹی وی سے کم عمری میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا، انہیں ڈرامہ سیریل دھواں سے غیر معمولی شہرت ملی، جس کے بعد وہ راتوں رات سُپر اسٹار بن گئیں اور لاکھوں مداحوں کے دل جیت لیے۔
کیریئر کے عروج پر انہوں نے شوبز کو خیرباد کہہ کر شادی کا فیصلہ کیا، جس کے بعد طویل عرصے تک اسکرین سے غائب رہیں۔
اب انہوں نے دوبارہ انڈسٹری میں واپسی کی ہے اور ایک بار پھر ناظرین کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نازلی نصر
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔