چین میں ’پلاسٹک ایٹنگ ڈائٹ‘ وائرل، ماہرین کی وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
چین میں نوجوانوں کے درمیان وزن کم کرنے کا ایک عجیب رجحان سوشل میڈیا خصوصاً ٹک ٹاک پر وائرل ہو رہا ہے، جسے ’پلاسٹک ایٹنگ‘ یا ’کلنگ ریپ ڈائٹ‘ کہا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: کتابوں پر پلاسٹک کور کی ممانعت کا بل سینیٹ سے منظور
اس طریقے میں لوگ کھانا منہ میں رکھ کر پلاسٹک ریپ کے ساتھ چباتے ہیں مگر نگلنے کے بجائے تھوک دیتے ہیں، دعویٰ ہے کہ اس سے بغیر کیلوریز لیے پیٹ بھرنے کا احساس ہوتا ہے۔
A trend among young people in China: For fear of obesity and in order to feel full, they place a plastic bag over their mouth while eating.
— China pulse ???????? (@Eng_china5) February 17, 2026
ماہرین کے مطابق اس عمل کی افادیت کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں جبکہ قومی ادارہ صحت کی تحقیق کے مطابق مائیکرو پلاسٹکس نظامِ ہاضمہ، پھیپھڑوں اور ہارمونز کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ رجحان کھانے کی نفسیاتی بیماریوں اور جسمانی خدشات میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: اسکاٹ لینڈ میں 22 سالہ خاتون نے ’پلاسٹک کی گڑیا‘ کو جنم دیدیا
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے سوشل میڈیا ٹرینڈز کے بجائے متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی اپنایا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’پلاسٹک ایٹنگ ڈائٹ‘ پلاسٹک چین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
فوٹو: فائلکفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔