26 نومبر احتجاج کیس: علیمہ خان انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت کے سلسلے میں علیمہ خان انسداد دہشت گردی عدالت پیش ہوئیں، کیس کی سماعت 23 فروری تک ملتوی کردی گئی۔
عدالت کے جج امجد علی شاہ چھٹی پر ہونے کے باعث کوئی کارروائی نہ ہو سکی، عدالت نے آخری دونوں گواہوں تفتیشی افسران کو آئندہ تاریخ پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
عدالت پیشی پر علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری معطل جبکہ آئندہ تاریخ ہر صورت عدالت پیش ہونے کا حکم دیا گیا۔
وکیل صفائی کو دونوں آخری گواہان پر جرح مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی، علیمہ خان سمیت تمام 11 ملزمان عدالت میں موجود تھے، علیمہ خان کے گارنٹرز کے جاری شوکاز نوٹس بھی معطل کر دیے گئے۔
سماعت کے بعد علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا مجھ پر کیس ہے کہ میں نے خان صاحب کا پیغام پہنچایا، خان صاحب اور حامد رضا سمیت دیگر پر کیسز سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں، یہ کیسز ایک دن میں ہوا میں اڑ جائیں گے۔
بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا مسئلہ ہے اور ہمارا مطالبہ ہے انہیں الشفاء منتقل کیا جائے، بانی پی ٹی آئی کی رہائی تب ممکن ہے جب جسٹس سرفراز ڈوگر کیسز کی سماعت کریں۔
چیف جسٹس سے اپیل ہے کیسز سنیں کیونکہ مقرر جج چھٹی پر چلے گئے، بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہوتے ہی ان کی آنکھ کا علاج الشفاء ہسپتال سے کروایا جائے گا، حکومت نے خان صاحب کے ساتھ تماشہ کیا، فیملی اور ذاتی معالج کی غیر موجودگی میں معائنہ کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آخری ملاقات میں خان صاحب نے کہا یہ مجھے ختم کر دیں گے، محسن نقوی نے فیملی اور ڈاکٹروں کی موجودگی میں علاج کی گارنٹی دی تھی، بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جا رہا اور ملاقات بھی نہیں کرائی جا رہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی علیمہ خان
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک