تحریکِ انصاف کے رہنما فیصل جاوید خان کے خلاف توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے کی سماعت میں سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو اختیارِ سماعت کے معاملے پر جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی۔

کیس کی سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی۔

دورانِ سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک سیاسی مقدمہ ہے اور حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سپریم کورٹ: سائفر اپیل کیس بغیر کارروائی ملتوی

انہوں نے کہا کہ فیصل جاوید سمیت دیگر 7 افراد کے خلاف مقدمہ درج ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس میں کہا کہ ہم بھی طالبعلمی دور میں سیاست کرتے تھے۔

انہوں نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو راستہ دکھا رہے ہیں، اپنا ٹرمپ کارڈ سنبھال کر رکھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جیل سیاسی لوگوں کے لیے زبردست ہوتی ہے، جسے لیڈر بنانا ہو اسے جیل بھیج دو۔

مزید پڑھیں: مرد عورتوں کے محافظ ہیں، قاتل نہیں: سپریم کورٹ نے قاتل شوہر کی اپیل خارج کر دی

ان کا کہنا تھا کہ میرے دائیں بائیں جو موجود ہیں انہوں نے بھی جیلیں کاٹی ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس اشتیاق ابراہیم نے سوال اٹھایا کہ کیا پتھراؤ کرنے سے دہشتگردی کا مقدمہ درج ہوگا۔

فیصل جاوید کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے میں 7 گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں۔

عدالت نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ وہ اختیارِ سماعت کے معاملے پر جلد از جلد فیصلہ کرے، جس کے بعد مزید کارروائی آگے بڑھ سکے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹرائل کورٹ ٹرمپ کارڈ جسٹس اشتیاق ابراہیم جسٹس ہاشم کاکڑ جیل دہشتگردی سپریم کورٹ فیصل جاوید خان لیڈر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹرائل کورٹ ٹرمپ کارڈ جسٹس اشتیاق ابراہیم جسٹس ہاشم کاکڑ جیل دہشتگردی سپریم کورٹ فیصل جاوید خان لیڈر جسٹس ہاشم کاکڑ ٹرائل کورٹ فیصل جاوید سپریم کورٹ انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ