امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی باعث اور ممکنہ جنگ کے خدشات کے بعد پولینڈ کی حکومت نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران سے نکلنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ 

پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے خبردار کیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے باعث ممکن ہے آئندہ چند گھنٹوں میں انخلا بھی ممکن نہ رہے۔

وارسا سے جاری بیان میں پولش وزیراعظم نے اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ بلا تاخیر ایران چھوڑ دیں اور فی الحال کسی بھی صورت اس ملک کا سفر کرنے سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات غیر یقینی ہیں اور سیکیورٹی صورتحال اچانک مزید خراب ہو سکتی ہے۔

پولینڈ کی جانب سے یہ ہنگامی انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ممکنہ عسکری تصادم کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اس ہفتے کے اختتام تک ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی پر غور کر رہا ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

BREAKING:

Polish PM Tusk has urged all Polish citizens in Iran to leave immediately, warning that in a few hours it may no longer be possible to evacuate them.

pic.twitter.com/GgX3zb7FTA

— Current Report (@Currentreport1) February 19, 2026

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام مختلف فوجی اور سیاسی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں اور عسکری تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جبکہ خطے میں تعینات اہلکاروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

دوسری جانب ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل میں بھی سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ شہریوں کو ہنگامی صورتحال کے پیش نظر محفوظ پناہ گاہوں اور بنکرز کے قریب رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں حالات کسی بھی وقت سنگین رخ اختیار کر سکتے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا