خطے میں جنگ کے خدشات، پولینڈ کی اپنے شہریوں کو فوری ایران چھوڑنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی باعث اور ممکنہ جنگ کے خدشات کے بعد پولینڈ کی حکومت نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران سے نکلنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔
پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے خبردار کیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے باعث ممکن ہے آئندہ چند گھنٹوں میں انخلا بھی ممکن نہ رہے۔
وارسا سے جاری بیان میں پولش وزیراعظم نے اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ بلا تاخیر ایران چھوڑ دیں اور فی الحال کسی بھی صورت اس ملک کا سفر کرنے سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات غیر یقینی ہیں اور سیکیورٹی صورتحال اچانک مزید خراب ہو سکتی ہے۔
پولینڈ کی جانب سے یہ ہنگامی انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ممکنہ عسکری تصادم کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اس ہفتے کے اختتام تک ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی پر غور کر رہا ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
BREAKING:
Polish PM Tusk has urged all Polish citizens in Iran to leave immediately, warning that in a few hours it may no longer be possible to evacuate them.
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام مختلف فوجی اور سیاسی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں اور عسکری تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جبکہ خطے میں تعینات اہلکاروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
دوسری جانب ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل میں بھی سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ شہریوں کو ہنگامی صورتحال کے پیش نظر محفوظ پناہ گاہوں اور بنکرز کے قریب رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں حالات کسی بھی وقت سنگین رخ اختیار کر سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔