Juraat:
2026-06-03@03:26:01 GMT

بھارتی مسلمانوں پر تشدد

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

بھارتی مسلمانوں پر تشدد

ریاض احمدچودھری

بھارتی اقلیتوں پر انتہاپسند ہندوؤں کے وحشیانہ مظالم پرمذہبی آزادی کا عالمی امریکی ادارہ بھی بول اٹھا۔ آرایس ایس کے ہندوتوا نظریہ پرقائم مودی حکومت میں اقلیتوں پر وحشیانہ مظالم کی تمام حدیں پار ہوگئیں، بی جے پی کی انتہا پسند حکومت اپنا اقتدار قائم رکھنے کیلئے ہندوتوا کو ایک سیاسی بیانیے کے طور پر استعمال کرنے پر کاربند ہے۔بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اورمسیحیوں پر ہجوم کے تشدد اورعبادت گاہوں پرحملے معمول بن چکے ہیں۔ امریکی کمشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے مطابق موجودہ سال کی ابتداء سے ہی بھارتی مسیحیوں پر حملوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا، خصوصاً جب اوڑیسہ میں پادری کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کمشن کا کہنا ہے کہ مذہب کی جبری تبدیلی کے الزامات پراقلیتوں کو غیر قانونی حراست میں رکھا جاتا ہے اور سفاکانہ حملے کیے جاتے ہیں۔ اترپردیش میں گھر کے اندرعبادت کرنے والے 12 مسلمانوں کو حراست میں لیا جانا بھی اس کی بدترین مثال ہے۔ بین الاقوامی ماہرین کے مطابق مودی حکومت کی نفرت پر مبنی پالیسیوں نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے بنیادی حقوق اور ان کے محفوظ مستقبل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ آر ایس ایس کے نظریاتی ایجنڈے کے تحت موجودہ بھارتی حکومت اقلیتوں کو قومی اور سماجی دھارے سے الگ کرنے کی منظم کوششوں میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں کبھی مسلمانوں کے حجاب پر اعتراض کیا جاتا ہے، کبھی دوپٹے پر، کبھی داڑھی پر، کبھی مذہبی رسومات پر۔ دیگر اقلیتوں کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی ، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے مسلسل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت میں مذہبی آزادی کی گنجائش مسلسل سکڑ رہی ہے۔ نفرت انگیز تقاریر، اقلیتوں کے خلاف قوانین ، عبادت گاہوں کی مسماری اور جلاو گھیراو، یہ سب اس تصویر کے مختلف رخ اور رنگ ہیں۔ لیکن بھارت آج تک ایسی کسی رپورٹ کو اہمیت دینے کو تیار نہیں ہے۔ وہ نہایت ڈھٹائی سے ان رپورٹس کو مسترد کر دیتا ہے۔
بھارت میں کرسمس کے موقع پر انتہا پسند ہندو وںنے مسیحی برادری کے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔یہ کسی ایک جگہ کا قصہ نہیں ہے۔ بلکہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں انتہاپسندوں نے مسیحی شہریوں کو کرسمس کا جشن منانے سے روکا۔ ان کی مار پیٹ کی۔اور ان کی جشن کی جگہوں اور سجاوٹ کو تہس نہس کر دیا۔ کیرالہ میں بچوں کے کرسمس کیرول گروپ پر بھی حملہ ہوا اور بچوں کو زد وکوب کیا گیا۔ اندازہ کیجئے کہ شہری اگر اپنے ملک میں اپنی مذہبی رسومات بھی ادا کرنے سے قاصر ہوں تو وہ کن حالات میں زندگی گزارتے ہوں گے۔ بھارت میں ہر اقلیت کے ساتھ یہی ہو رہا ہے۔ عید الاضحی مناتے وقت مسلمانوں کو بھی اس رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گائے کی قربانی کرتے وقت ، ان کی اپنی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ بھارت کے سابق ہوم سیکرٹری گوپال پلئی نے وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ سرکار ملک میں فرقہ وارانہ نفرت کو فروغ دے رہی ہے اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ جو لوگ کھلے عام اشتعال انگیز اور نفرت پر مبنی زبان استعمال کرتے ہیں، انہیں سزا دینے کے بجائے انعام دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، "جب کسی کو ‘گولی مارو سالوں کو’ جیسے جملے کہنے کے بعد بھی ترقی دی جاتی ہے، تو یہ واضح پیغام ہوتا ہے کہ حکومت ایسے بیانیے کی حمایت کرتی ہے۔”گوپال پلئی نے وزیراعظم مودی پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے حلف کے مطابق تمام شہریوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف امتیازی پالیسیوں کو اب ریاستی پشت پناہی حاصل ہے۔انہوں نے خاموش رہنے والے ہندوؤں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ جو لوگ آج کے حالات پر آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں، وہ خود بھارت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ان کے مطابق، "یہ خاموشی داخلی خلفشار، مذہبی تقسیم اور ممکنہ خانہ جنگی کی راہ ہموار کر رہی ہے۔”گوپال پلئی نے خبردار کیا کہ اگر حالات نہ بدلے تو مودی حکومت کو تاریخ ایک تاریک دور کے طور پر یاد کرے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کا اصل اتحاد مذہبی رواداری میں ہے اور جہاں نفرت کا بول بالا ہو، وہاں ترقی ممکن نہیں۔
مودی حکومت کے اقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کے ذریعہ معاش پر حملہ کیا گیا۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق پر واویلا کرنے والی تنظیموں کو بھارت میں مسلمانوں کیخلاف اس معاشی بائیکاٹ پر آواز اٹھانا چاہئے۔اتر پردیش میں مسلمانوں کی ملکیت والے ذبح خانوں کو غیر قانونی قرار دے کر بند کر دیا گیا ہے، جس کے باعث مسلمانوں کے ذریعہ معاش پر حملہ کیا گیا ہے۔ حاجی یوسف قریشی نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی روزگار کے ذرائع کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ادیتا ناتھ اور مودی کی جوڑی نے مسلمانوں میں ایک ایسے عدم تحفظ کو جنم دیا ہے جس کی کوئی اور مثال ہندوستان کی حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس جوڑی نے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ ان کے اقتدار میں چند رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ گزشتہ برس عید سے چند دن پہلے ایک 15 سالہ لڑکا اپنے اور دو دوستوں کے ساتھ دہلی سے عید کی خریداری کر کے ماتھورا میں واقع اپنے گھر بذریعہ ٹرین واپس جا رہا تھا۔ ان سب ساتھیوں کا حلیہ ان کے مسلمان ہونے پر دلالت کر رہا تھا۔ سیٹ پر بیٹھنے کے مسئلے پر ڈبہ میں سوار ایک گروہ سے کچھ تکرار ہوئی جو وقفے وقفے سے جاری رہی لیکن زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ یہ مذہبی رنگ اختیار کر گئی۔ اس گروہ نے جنید کی ٹوپی، مسلمان ہونے اور گائے کاگوشت کھانے کے طعنے دیئے اور پھر یہ سارا معاملہ زبردست حملے کی شکل اختیار کر گیا۔ اس گروہ کے لوگ جو جنید اور اس کے بھائی اور دوستوں سے عمر میں بڑے تھے’ جلد ہی چاقو نکال لئے اور جید کو بے رحمی سے قتل کر دیا۔ ایک شہری کا اس قدر سفاکانہ اور بہیمانہ قتل بھارت کی جمہوریت اور اس کے سیکولر آئین پر اک بدنما داغ ہے۔ مرکزی یا ریاستی حکومت کے کسی ذمہ دار نے اس واقعہ کی مذمت میں کوئی بیان نہیں دیا اور یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: اقلیتوں کے مودی حکومت بھارت میں کے مطابق کہ بھارت جاتا ہے کے ساتھ کر دیا

پڑھیں:

فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام

سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔

یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟

30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:

’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘

اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔

اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:

’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘

اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔

ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:

’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔

اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:

’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘

اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔

اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔

        View this post on Instagram                      

حقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟

اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔

ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔

اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:

’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘

"An Indian thrashed in Thailand." ????

A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.

As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF

— Suraj Kumar Bauddh (@SurajKrBauddh) January 3, 2026

 

دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔

خبر کی سرخی تھی:

’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘

رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔

ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔

فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار

یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔

یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں