امریکا ایران کشیدگی: پولینڈ نے شہریوں کو فوری ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وارسا: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ عسکری تصادم کے خدشات کے پیش نظر یورپی ملک پولینڈ نے اپنے شہریوں کو ہنگامی طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے خبردار کیا ہے کہ خطے کی صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے اور اگر حالات مزید بگڑ گئے تو آئندہ چند گھنٹوں میں انخلا بھی ممکن نہیں رہے گا۔
سرکاری بیان میں پولش وزیراعظم نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ بلا تاخیر ایران سے روانہ ہو جائیں اور فی الحال اس ملک کا سفر ہرگز نہ کریں، سیکیورٹی صورتحال غیر یقینی ہے اور اچانک خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر فوری اختیار کرنا ضروری ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ابھی تک کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکام عسکری اور سفارتی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں جبکہ خطے میں تعینات اہلکاروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں۔
دوسری جانب ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے باعث اسرائیل میں بھی سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہنگامی صورتحال کی صورت میں محفوظ پناہ گاہوں اور بنکرز کے قریب رہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم