بی جے پی جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے میں لگی ہوئی ہے، ڈاکٹر بشیر احمد ویری
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
رکنِ اسمبلی نے کہا کہ اس وقت جموں و کشمیر میں دو متوازی حکومتیں چل رہی ہیں ایک منتخب نمائندوں کی اور دوسری افسر شاہی کی جو یونین ٹیریٹری نظام کے تحت کام کررہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بیجبہاڑہ کے رکنِ اسمبلی ڈاکٹر بسیر احمد ویری نے جموں کشمیر اسمبلی میں جاری اجلاس کے دوران میں اپنے حلقہ انتخاب بیجبہاڑہ میں مذہبی سیاحت کے فروغ کا مسئلہ زور و شور سے اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بیجبہاڑہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں متعدد تاریخی اور مذہبی مقامات موجود ہیں، جنہیں مناسب توجہ اور بنیادی سہولیات فراہم کر کے سیاحتی نقشے پر نمایاں مقام دیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر بشیر احمد ویری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مذہبی مقامات تک سڑکوں کی بہتری، قیام و طعام کی سہولیات، صفائی ستھرائی اور تشہیری مہمات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مقامی نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور معیشت کو فروغ ملے۔
میڈیا کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر بشیر احمد ویری نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے جموں و کشمیر اور لداخ کو تقسیم کر کے خطے کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس وقت جموں و کشمیر میں دو متوازی حکومتیں چل رہی ہیں ایک منتخب نمائندوں کی اور دوسری افسر شاہی کی جو یونین ٹیریٹری نظام کے تحت کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات کی مکمل منتقلی منتخب نمائندوں کو ہونی چاہیے تاکہ عوامی مسائل کا حل ممکن ہو اور ترقیاتی منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: احمد ویری
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔