WE News:
2026-06-02@20:42:55 GMT

کیا عالمی اے آئی ریس ہنڈن برگ طرز کے سانحے پر ختم ہوسکتی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

کیا عالمی اے آئی ریس ہنڈن برگ طرز کے سانحے پر ختم ہوسکتی ہے؟

دنیا اس وقت مصنوعی ذہانت کے عروج کے دور سے گزر رہی ہے جہاں تیز رفتار تکنیکی ترقی، بھاری سرمایہ کاری اور کمرشل مسابقت نے اس شعبے کو غیر معمولی رفتار دے دی ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہی تیزی اگر احتیاط کے بغیر جاری رہی تو یہ “بوم” کسی بڑے ’ڈوم‘ منظرنامے میں بدل سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بدانتظامی اور اسکینڈلز سے دوچار بھارتی اے آئی سمٹ کو ایک اور دھچکا، بل گیٹس کی شرکت منسوخ

حالیہ پیشرفت جن میں اے آئی سیفٹی ریسرچرز کے استعفے، انتھروپک کی جانب سے اے آئی کے ممکنہ باغی رویّوں سے متعلق سَبوتاژ رسک رپورٹ، سنگولیریٹی سے متعلق مباحث، اور اے آئی ریگولیشن میں عالمی سطح پر عدم ہم آہنگی نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ ٹیکنالوجی خطرناک سمت اختیار کر سکتی ہے۔

ہنڈن برگ جیسے حادثے کا انتباہ

مائیکل وولڈرج، جو مصنوعی ذہانت کے ممتاز ماہر اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں، نے خبردار کیا ہے کہ بے لگام اے آئی دوڑ ایک ہنڈن برگ طرز کے سانحےپر منتج ہوسکتی ہے یعنی ایسا نمایاں اور ہولناک واقعہ جو عالمی اعتماد کو متزلزل کر دے اور اس ٹیکنالوجی کو عوام کی نظر میں مردہ بنا دے۔

ان کے مطابق بڑی ٹیک کمپنیاں حفاظتی تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے رفتار اور منافع کو ترجیح دے رہی ہیں۔ صارفین تک سبقت لے جانے کی دوڑ میں وہ ٹیکنالوجی کی خامیوں کو مکمل طور پر سمجھے بغیر اسے متعارف کرا دیتی ہیں۔

مزید پڑھیے: پینٹاگون نے وینزویلا کے صدر مادورو کے خلاف کارروائی میں کس اے آئی ماڈل کی مدد لی؟

ان کا کہنا تھا یہ ایک کلاسک ٹیکنالوجی منظرنامہ ہے۔ ایک نہایت امید افزا ٹیکنالوجی، مگر اتنی سخت جانچ سے نہیں گزری جتنی ہونی چاہیے تھی اور اس کے پیچھے کمرشل دباؤ ناقابلِ برداشت ہے۔

اپنے لیکچر میں انہوں نے کہا کہ دنیا جلد ایک ایسے لمحے کی گواہ بن سکتی ہے جب اے آئی سے جڑا کوئی بڑا بحران سامنے آئے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ہنڈن برگ کے حادثے نے دنیا بھر میں ایئرشپس میں دلچسپی ختم کر دی تھی وہ ٹیکنالوجی وہیں ختم ہوگئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی کے لیے بھی ایسا لمحہ ایک حقیقی خطرہ ہے۔

’موجودہ اے آئی نہ مکمل ہے، نہ بے عیب‘

پروفیسر وولڈرِج کے مطابق یہ سمجھنا غلط ہے کہ جدید اے آئی سسٹمز مکمل اور بے خطا ہیں۔

مزید پڑھیں: گوگل نے ’کم قیمت‘ اے آئی پلس پلان عالمی سطح پر متعارف کرادیا

انہوں نے کہا کہ بڑے لینگویج ماڈلز امکانات کی بنیاد پر پیش گوئیاں کرتے ہیں جس کے باعث ان کی صلاحیتیں غیر ہموار ہوتی ہیں یعنی وہ کچھ کاموں میں انتہائی مؤثر جبکہ بعض میں کمزور ثابت ہوتے ہیں۔

انسان نما تصور کا جال

وولڈرِج کے نزدیک ایک اور بڑا خطرہ یہ ہے کہ لوگ اے آئی کو انسانی خصوصیات کا حامل سمجھنے لگتے ہیں۔ چونکہ اے آئی چیٹ بوٹس عموماً خوشامدانہ اور تصادم سے گریز کرنے والے جوابات دیتے ہیں، اس لیے صارفین خود کو ان کے ساتھ زیادہ مطمئن محسوس کرتے ہیں۔

سنہ 2025 میں سینٹر فار ڈیموکریسی اینڈ ٹیکنالوجی کے ایک سروے کے مطابق تقریباً ایک تہائی طلبہ نے اعتراف کیا کہ وہ یا ان کا کوئی دوست اے آئی کے ساتھ رومانوی تعلق میں رہا ہے۔

پروفیسر وولڈرِج نے زور دیا کہ انسانوں کو سمجھنا ہوگا کہ یہ سسٹمز محض اوزار ہیں جذبات اور حقیقی شعور سے عاری اور محض پیچیدہ الگورتھمز پر مبنی۔

یہ بھی پڑھیے: اے آئی کی تیز رفتار پیش قدمی سے کونسی ملازمتیں خطرے میں؟ بل گیٹس نے بتا دیا

ماہرین کے مطابق اگر اے آئی کی ترقی کو مؤثر ضابطہ کاری، سخت جانچ اور اخلاقی اصولوں کے بغیر آگے بڑھایا گیا تو یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے غیر متوقع بحران کا سبب بن سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا بروقت سیکھ لے گییا پھر ایک ’ہنڈن برگ لمحہ‘ اس کا منتظر ہے؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عالمی اے آئی ریس مصنوعی ذہانت ہنڈن برگ سانحہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عالمی اے آئی ریس مصنوعی ذہانت انہوں نے سکتی ہے اے ا ئی اے آئی

پڑھیں:

اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے اور عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں اور بات چیت کے فروغ کے لیے پاکستان کے مسلسل ثالثی کردار اور سہولت کاری کی کوششوں کو سراہا۔

Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 spoke today with Kuwait’s Foreign Minister Sheikh Jarrah Jaber Al-Ahmad Al-Sabah to discuss evolving regional and international developments.

FM Sheikh Jarrah appreciated Pakistan’s continued… pic.twitter.com/CBnvw1REKc

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

انہوں نے علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی بھی تعریف کی۔

اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیاکہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے سفارت کاری اور مسلسل مذاکرات کو ہی بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔

دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیاکہ جاری سفارتی کوششیں مثبت نتائج دیں گی اور مستقبل قریب میں خطے میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔

گفتگو کے دوران پاکستان اور کویت کے درمیان موجود مضبوط برادرانہ تعلقات کا بھی اعادہ کیا گیا، جبکہ دونوں فریقوں نے مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسحاق ڈار ٹیلیفونک رابطہ عالمی صورتحال کویتی وزیر خارجہ نائب وزیراعظم وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان
  • پنجاب میں عید پر صفائی آپریشن مثالی رہا، ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، مریم اورنگزیب