کراچی، بغیر نمبر پلیٹ کی موبائل میں سوار سادہ لباس اہلکاروں کی ڈکیتی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اہلکاروں کی ڈکیتی اور سی آئی اے گارڈن میں شہریوں کو یرغمال بنانے اور رقم کے عوض رہائی کے واقعے پر وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے سخت نوٹس لے لیا۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں بغیر نمبر پلیٹ کی موبائل میں سوار سادہ لباس اہلکاروں کی ڈکیتی اور سی آئی اے گارڈن میں شہریوں کو یرغمال بنانے اور رقم کے عوض رہائی کے واقعے پر وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے سخت نوٹس لے لیا۔ وزیر داخلہ نے ڈی آئی جی سی آئی اے اور ایس ایس پی ویسٹ کو فوری طور پر جملہ تفصیلات سے آگاہ کرنے، فرض شناس ٹیم تشکیل دے کر معاملے کی جامع تحقیقات کرانے کی ہدایت کی۔ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ پولیس میں موجود کالی بھیڑیں کسی طور بھی ناقابل برداشت ہیں، جرم کے مرتکب افسران و اہلکاروں کو بلیک لسٹ کیا جائے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ تاجر سے لوٹی گئی اشیاء و مال قواعد و ضوابط کے مطابق واپس کیا جائے، انکوائری اور اس میں ہونے والی پیشرفت کی تفصیلات بھی جلد فراہم کی جائیں اور واقعہ میں ملوث اہلکاروں کے ناموں کی فہرست ارسال کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔