پی ایس ایل 11، حیدرآباد ہیوسٹن کنگزمین نے گلین میکسویل کو ٹیم میں شامل کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
حیدرآباد ہیوسٹن کنگز مین نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11ویں ایڈیشن کے لیے آسٹریلیا کے اسٹار آل راؤنڈر گلین میکسویل کو براہِ راست سائن کرلیا ہے، فرنچائز نے جمعرات کو سوشل میڈیا کے ذریعے اس اہم شمولیت کا اعلان کیا۔
پی ایس ایل 11 کا آغاز 26 مارچ سے ہوگا اور فائنل 3 مئی کو کھیلا جائے گا۔ میکسویل اس سیزن میں پہلی بار پی ایس ایل میں شرکت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سپر لیگ 11: جیسن گلیسپی حیدرآباد فرنچائز کے ہیڈ کوچ مقرر
گلین میکسویل ٹی20 فارمیٹ کے خطرناک ترین بیٹرز میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے آسٹریلیا کے لیے 129 ٹی20 انٹرنیشنل میچز میں 2ہزار 897 رنز اسکور کیے، جس میں 5 سنچریاں اور 12 نصف سنچریاں شامل ہیں، جبکہ ان کا اسٹرائیک ریٹ 158.
View this post on Instagram
A post shared by Hyderabad Kingsmen (@hhkingsmen)
انہوں نے آف اسپن کے ذریعے 49 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ مجموعی طور پر 502 میچز میں میکسویل نے 10,986 رنز اور 196 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
میکسویل دنیا کی بڑی ٹی20 لیگز، بشمول بگ بیش لیگ، انڈین پریمیئر لیگ، دی ہنڈرڈ اور وائٹیلٹی بلاسٹ میں کھیل چکے ہیں۔ ان کی شمولیت سے حیدرآباد ہیوسٹن کنگز مین کی بیٹنگ اور آل راؤنڈ صلاحیت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 11 کے لیے کھلاڑیوں کی بولی، کس کھلاڑی کی کتنی قیمت لگی؟
پی ایس ایل 11 میں 2 نئی ٹیمیں، سیالکوٹ اسٹالینز اور حیدرآباد ہیوسٹن کنگز مین شامل کی گئی ہیں۔ اس بار پہلی مرتبہ پلیئر آکشن کا انعقاد کیا گیا، جس نے گزشتہ 10 سیزنز سے جاری ڈرافٹ سسٹم کی جگہ لے لی۔
ہر ٹیم کو صرف 4 پرانے کھلاڑی برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی، جس کے باعث نئی اسکواڈز کی تشکیل ایک بڑا چیلنج ثابت ہوئی۔
حیدرآباد ہیوسٹن کنگز مین کی اسکواڈ میں صائم ایوب، عاکف جاوید، معاذ صداقت، مارنس لبوشین، گلین میکسویل، عثمان خان، محمد علی، کوسل پریرا، محمد عرفان خان، حسن خان، شایان جہانگیر، اوٹنیل بارٹ مین، حماد اعظم، رائلی میریڈتھ، شرجیل خان، آصف محمود، حنین شاہ، رضوان محمود، سعد علی اور طیب عارف شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 11 شروع ہونے سے پہلے سیالکوٹ اسٹالینز میں شیئرز پر لڑائی، 76 فیصد کےمالک نے پارٹنر کو کٹہرے میں کھڑا کردیا
ماہرین کے مطابق گلین میکسویل کی شمولیت سے حیدرآباد ہیوسٹن کنگز مین کی ٹیم کو تجربہ، جارحانہ بیٹنگ اور آل راؤنڈ صلاحیت حاصل ہوگی، جو پی ایس ایل 11 میں ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پی ایس ایل 11 حیدرآباد ہیوسٹن کنگز مین گلین میکسویل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل 11 حیدرآباد ہیوسٹن کنگز مین گلین میکسویل حیدرآباد ہیوسٹن کنگز مین گلین میکسویل پی ایس ایل 11 کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔