ماہ رمضان میں تقویٰ، صبر اور مضبوط قوت ارادی کے حصول پر توجہ دیں، سید سعادت اللہ حسینی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
جماعت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ سوشل میڈیا اور بڑھتی بے حیائی کے باعث ایمان اور اخلاقیات کو مسلسل چیلنجز کا سامنا ہے، ڈیجیٹل دور میں اخلاقی قدریں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ماہ رمضان کو تزکیہ نفس، صبر و استقامت اور مضبوط قوت ارادی کا ذریعہ بنائیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسے وقت میں جب ایمان اور اخلاقی قدریں مسلسل دباؤ کا شکار ہیں روزہ تقویٰ، صبر اور اخلاقی مضبوطی پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ تقویٰ دل کی ایک کیفیت کا نام ہے، اللہ کی موجودگی اور اس کی نگرانی کا احساس انسان کو گناہ سے دور رہنے اور نیکی کی طرف مائل کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ روزہ مسلمانوں کو یہ شعور عطا کرتا ہے کہ وہ محض ظاہری عبادات اور رسمی پابندیوں تک محدود نہ رہے بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں تقویٰ اور پرہیزگاری کا احساس برقرار رکھیں۔
روزے کے روحانی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ روزے کے ذریعے انسان جسمانی لذتوں کے مقابلے میں روحانی مسرتوں سے آشنا ہوتا ہے۔ بھوک اور ضبطِ نفس یہ حقیقت واضح کرتے ہیں کہ صرف جسمانی آرام و آسائش ہی زندگی کا مقصد نہیں ہے بلکہ توبہ و استغفار روح کو پاکیزگی عطا کرتے ہیں اور مقصد حیات کو واضح کرتے ہیں۔ سید سعادت اللہ حسینی نے رمضان کو صبر کا مہینہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صبر کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے اصولوں پر چٹان کی طرح مضبوطی سے قائم رہے، چاہے بیرونی دباؤ ہو یا اندرونی خواہشات کا زور۔ انہوں نے کہا کہ روزہ بھوک، پیاس، مصروفیات اور توجہ بٹانے والے عوامل کے باوجود ضبطِ نفس کی تربیت دیتا ہے تاکہ انسانی زندگی نفس کے بجائے اللہ کے احکام کی تابع ہو۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کی رضا کے لیے روزمرہ کی معمولات میں تبدیلی کے ذریعے مسلمان ارادے کی مضبوطی اور مشکل فیصلے کرنے کی طاقت پیدا کرتا ہے اور دباؤ میں بھی ثابت قدم رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور بڑھتی بے حیائی کے باعث ایمان اور اخلاقیات کو مسلسل چیلنجز کا سامنا ہے، ڈیجیٹل دور میں اخلاقی قدریں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ محض علامتی عبادات تک محدود نہ رہیں بلکہ رمضان کو اپنی زندگی کا ایک ایسا پڑاؤ بنائیں جو ذاتی اور اجتماعی سطح پر تبدیلی کا ذریعہ بنے، جس کی بنیاد تقویٰ اور استقامت پر قائم ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید سعادت اللہ حسینی اور اخلاقی نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔