مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس، میڈیا پر پارٹی پالیسی کے خلاف بیان بازی پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر امور کشمیر انجینیئر امیر مقام اور رانا ثنا اللہ کی صدارت میں ختم ہو گیا، جس میں پارٹی رہنماؤں نے میڈیا پر پارٹی پالیسی کے خلاف کسی بھی بیان بازی پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں ن لیگ کے اختلافات، اجلاس طلب
اجلاس میں صدر ن لیگ آزاد کشمیر شاہ غلام قادر اور پارلیمانی لیڈر راجہ فاروق حیدر خان نے شرکت کی، جبکہ مشتاق منہاس، نجیب نقی، چوہدری طارق فاروق اور بیرسٹر افتخار گیلانی بھی اجلاس میں موجود تھے۔ وفاقی وزیر کے کوآرڈینیٹر سردار طارق نے بھی اجلاس میں حصہ لیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں پارٹی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام اراکین میڈیا میں پارٹی کی پالیسی کے خلاف کوئی بیان نہ دیں، اور پارٹی مؤقف کے مطابق ہی بیانات جاری کیے جائیں۔ یہ پابندی پارٹی یکجہتی اور سیاسی حکمت عملی کو مضبوط بنانے کے لیے نافذ کی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزادکشمیر امیر مقام راجہ فاروق حیدر خان رانا ثنا اللہ شاہ غلام قادر مسلم لیگ ن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: راجہ فاروق حیدر خان رانا ثنا اللہ شاہ غلام قادر مسلم لیگ ن اجلاس میں
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔