پاکستان اور امریکہ نے نیویارک میں واقع روز ویلٹ ہوٹل کے حوالے سے ایک اسٹریٹجک اقتصادی تعاون کا باضابطہ آغاز کردیا ہے جس کے لیے پاکستان اور امریکا کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کا معاہدہ(ایم او یو)طے پا گیا ہے۔

وفاقی وزارت خزانہ کے مطابق امریکی جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن (جی ایس اے) کے ساتھ ہوٹل کی آپریشن، دیکھ بھال، تزئین و آرائش اور ممکنہ ری ڈیولپمنٹ کے امور پر اشتراک عمل طے پایا ہے اور یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی قیادت میں تعینات خصوصی ایلچی سٹیو ویٹکوف کی نگرانی میں مذاکرات کے بعد ممکن ہوئی۔

بیان میں کہا گیا کہ دونوں حکومتوں نے اس شراکت داری کو عملی شکل دینے کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط بھی کر دیے ہیں، امریکا کی جانب سے یہ دستاویز جی ایس اے کے ایڈمنسٹریٹر ایڈورڈ سی فورسٹ نے جبکہ پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے دستخط کیے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف بھی موجود تھے۔

مفاہمتی یادداشت کے تحت تکنیکی، تجارتی اور معاشی پہلوؤں کا مشترکہ اور مقررہ مدت میں جائزہ لینے کے لیے ایک منظم فریم ورک قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد شفاف، منضبط اور باہمی مفاد پر مبنی پیش رفت کو یقینی بنانا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ مین ہیٹن کے اہم علاقے میں واقع روزویلٹ ہوٹل کی اسٹریٹجک اہمیت اور نیویارک کے پیچیدہ زوننگ اور بلدیاتی قوانین کے پیش نظر ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے عمل درآمد کے خطرات کم کرنے، ریگولیٹری وضاحت بڑھانے اور ممکنہ طور پر زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

وزارت خزانہ نے بتایا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد نج کاری حکمت عملی کے تحت اس قیمتی اثاثے کی بہترین قدر حاصل کرنا اور پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اور امریکا کے پاکستان اور

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ