زرمبادلہ ذخائر میں استحکام کی کوشش، پاکستان 60 کروڑ ڈالر قرض لے گا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان نے اپنے سرکاری زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے کے لیے 60 کروڑ ڈالر کے قلیل مدتی تجارتی قرض کے حصول کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ سہولت برطانیہ کے معروف بینک سٹینڈرڈ چارٹرڈ سے حاصل کی جا رہی ہے، جس کی مدت 6 سے 9 ماہ کے درمیان ہوگی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ حکومت اس ٹریڈ فنانس کی ٹرم شیٹ قبول کر چکی ہے اور باقاعدہ معاہدہ جلد طے پانے کا امکان ہے۔
اس قرض پر متوقع شرح سود تقریباً 6.
حکام کا کہنا ہے کہ حاصل کی جانے والی رقم خام تیل اور گیس کی درآمدی ادائیگیوں کے لیے استعمال کی جائے گی تاکہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ حالیہ عرصے میں بیرونی کمرشل قرضوں اور خودمختار بانڈز کے اجرا سے خاطر خواہ وسائل حاصل نہ ہو سکے، جس کے باعث حکومت کو متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ میں کمرشل قرضوں کی وصولی مقررہ ہدف سے کہیں کم رہی۔ بجٹ میں اربوں ڈالر کے تخمینے کے مقابلے میں محض محدود رقم حاصل ہو سکی، جس سے مالی حکمت عملی پر سوالات اٹھے ہیں۔
اسی دوران پاکستان نے چین کے ترقیاتی بینک کا 70 کروڑ ڈالر قرض واپس کیا، جس کے بعد مرکزی بینک کے ذخائر میں عارضی کمی دیکھنے میں آئی۔
برآمدات میں کمی اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں گراوٹ نے بھی معاشی منظرنامے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حکومتی حلقے امید ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ قلیل مدتی فنانسنگ جون تک ری فنانس ہو جائے گی اور مجموعی ذخائر کو 18 ارب ڈالر سے اوپر لے جانے کے ہدف میں مدد ملے گی۔
معاشی ماہرین کے مطابق پائیدار استحکام کے لیے صرف قرضوں پر انحصار کافی نہیں، بلکہ برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری کا فروغ اور مالی نظم و ضبط بھی ناگزیر ہیں تاکہ معیشت کو طویل مدتی بنیادوں پر مستحکم کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔