data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان نے اپنے سرکاری زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے کے لیے 60 کروڑ ڈالر کے قلیل مدتی تجارتی قرض کے حصول کا فیصلہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ سہولت برطانیہ کے معروف بینک سٹینڈرڈ چارٹرڈ سے حاصل کی جا رہی ہے، جس کی مدت 6 سے 9 ماہ کے درمیان ہوگی۔

مزید بتایا گیا ہے کہ حکومت اس ٹریڈ فنانس کی ٹرم شیٹ قبول کر چکی ہے اور باقاعدہ معاہدہ جلد طے پانے کا امکان ہے۔

اس قرض پر متوقع شرح سود تقریباً 6.

3 فیصد ہوگی، جو سیکیورڈ اوور نائٹ فنانسنگ ریٹ (SOFR) کے ساتھ اضافی مارجن پر مبنی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حاصل کی جانے والی رقم خام تیل اور گیس کی درآمدی ادائیگیوں کے لیے استعمال کی جائے گی تاکہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ حالیہ عرصے میں بیرونی کمرشل قرضوں اور خودمختار بانڈز کے اجرا سے خاطر خواہ وسائل حاصل نہ ہو سکے، جس کے باعث حکومت کو متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ میں کمرشل قرضوں کی وصولی مقررہ ہدف سے کہیں کم رہی۔ بجٹ میں اربوں ڈالر کے تخمینے کے مقابلے میں محض محدود رقم حاصل ہو سکی، جس سے مالی حکمت عملی پر سوالات اٹھے ہیں۔

اسی دوران پاکستان نے چین کے ترقیاتی بینک کا 70 کروڑ ڈالر قرض واپس کیا، جس کے بعد مرکزی بینک کے ذخائر میں عارضی کمی دیکھنے میں آئی۔

برآمدات میں کمی اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں گراوٹ نے بھی معاشی منظرنامے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حکومتی حلقے امید ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ قلیل مدتی فنانسنگ جون تک ری فنانس ہو جائے گی اور مجموعی ذخائر کو 18 ارب ڈالر سے اوپر لے جانے کے ہدف میں مدد ملے گی۔

معاشی ماہرین کے مطابق پائیدار استحکام کے لیے صرف قرضوں پر انحصار کافی نہیں، بلکہ برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری کا فروغ اور مالی نظم و ضبط بھی ناگزیر ہیں تاکہ معیشت کو طویل مدتی بنیادوں پر مستحکم کیا جا سکے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار