پاکستانی طالبات کیسے آکسفورڈ یونیورسٹی کی فلی فنڈڈ اسکالرشپ حاصل کرسکتی ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ اور تعلیم کے حق کی عالمی آواز ملالہ یوسفزئی نے پاکستانی خواتین کے لیے برطانیہ کی ممتاز جامعہ یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں مکمل مالی معاونت کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کا خصوصی اسکالرشپ پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ اسکالرشپ آکسفورڈ پاکستان پروگرام کے تحت دی جائے گی اور اس کا بنیادی مقصد پاکستان کی باصلاحیت مگر مالی مشکلات کا شکار طالبات کو عالمی معیار کی تعلیم تک رسائی دینا اور انہیں قیادت و تحقیق کے میدان میں آگے لانا ہے تاکہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے ملک اور معاشرے کی ترقی میں کردار ادا کرسکیں۔
مزید پڑھیں: آکسفورڈ ڈکشنری نے ’ریج بیٹ‘ کو 2025 کا لفظ قرار دے دیا
اس پروگرام کے تحت منتخب طالبات کو اعلیٰ تعلیم خصوصاً ماسٹرز سطح کے مختلف مضامین میں داخلہ حاصل کرنے کے بعد مکمل مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ اس مدد میں یونیورسٹی کی پوری تعلیمی فیس، رہائش کے اخراجات، روزمرہ ضروریات کے لیے وظیفہ اور دیگر لازمی تعلیمی اخراجات شامل ہوں گے تاکہ طالبات مالی دباؤ سے آزاد ہو کر مکمل توجہ اپنی تعلیم اور تحقیق پر مرکوز رکھ سکیں۔
اس اسکالرشپ کا دائرہ وسیع ہے اور جامعہ میں دستیاب متعدد تعلیمی شعبوں میں داخلہ لینے والی طالبات اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں، بشرط یہ کہ وہ داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں۔
اہلیت کے لیے ضروری ہے کہ درخواست دینے والی امیدوار پاکستانی شہریت رکھتی ہو یا پاکستانی نژاد ہو، اس کا تعلیمی ریکارڈ مضبوط ہو اور وہ متعلقہ پروگرام میں داخلہ حاصل کر چکی ہو، کیونکہ مالی معاونت کے لیے درخواست اسی صورت زیرِ غور آتی ہے جب جامعہ کی جانب سے داخلہ منظور ہو چکا ہو۔
مزید پڑھیں: آکسفورڈ یونین مباحثے میں پاکستان کی برتری، بھارت کی پسپائی اور جعلی پروپیگنڈا بے نقاب
انتخاب کے عمل میں صرف تعلیمی کارکردگی ہی نہیں بلکہ امیدوار کی قیادت کی صلاحیت، سماجی خدمت کا جذبہ، اور یہ واضح منصوبہ بھی دیکھا جائے گا کہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان یا عالمی سطح پر مثبت تبدیلی کے لیے کس طرح کام کرنا چاہتی ہے۔ کم وسائل والے گھرانوں، دور دراز علاقوں اور ایسے پس منظر سے تعلق رکھنے والی طالبات کو خصوصی توجہ دی جا سکتی ہے جہاں اعلیٰ تعلیم کے مواقع محدود ہوں۔
درخواست دینے کا طریقہ کار مرحلہ وار ہے۔ پہلے امیدوار کو جامعہ میں اپنے منتخب مضمون کے لیے باقاعدہ درخواست دے کر داخلہ حاصل کرنا ہوگا۔ داخلہ ملنے کے بعد وہ اسکالرشپ پروگرام کے تحت مالی معاونت کے لیے درخواست جمع کراسکے گی، جس کے ساتھ تعلیمی اسناد، داخلہ کی تصدیق، ذاتی بیان، مستقبل کے منصوبوں کی وضاحت اور ریکمنڈیشن لیٹرز شامل کرنا ہوں گے۔ ابتدائی جانچ کے بعد مختصر فہرست تیار کی جائے گی اور کامیاب امیدواروں کا مزید جائزہ یا انٹرویو بھی لیا جا سکتا ہے، جس کے بعد حتمی انتخاب کا اعلان کیا جائے گا۔
ملالہ یوسفزئی نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں لڑکیاں صلاحیت رکھنے کے باوجود مالی اور سماجی رکاوٹوں کے باعث اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں، اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: آکسفورڈ یونیورسٹی مباحثہ پاکستانی طلبا نے دو تہائی اکثریت سے جیت لیا
ان کے مطابق تعلیم صرف ذاتی کامیابی کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرتی تبدیلی کی بنیاد ہے، اور اگر پاکستانی خواتین کو عالمی معیار کی تعلیم ملے تو وہ تحقیق، پالیسی سازی، سائنس، قانون، صحت اور سماجی ترقی سمیت ہر شعبے میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اسکالرشپ نہ صرف انفرادی زندگیوں کو بدل دے گی بلکہ پاکستان میں تعلیم اور خواتین کی ترقی کے سفر کو بھی مضبوط بنائے گی۔
یہ اقدام ماہرینِ تعلیم کے نزدیک پاکستانی طالبات کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف عالمی معیار کی تعلیم کے دروازے کھلیں گے بلکہ بین الاقوامی تعلیمی اداروں میں پاکستانی خواتین کی نمائندگی بھی بڑھے گی، جس کے اثرات طویل مدت میں ملکی تعلیمی معیار، تحقیق اور سماجی ترقی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آکسفورڈ آکسفورڈ یونیورسٹی پاکستانی طالبات فلی فنڈڈ اسکالرشپ ملالہ یوسفزئی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آکسفورڈ آکسفورڈ یونیورسٹی پاکستانی طالبات ملالہ یوسفزئی داخلہ حاصل کر تعلیم کے کی تعلیم کرنے کے کے بعد کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :