کیا امریکا واقعی ایران سے خوفزدہ ہے؟ ماہر عالمی امور ڈاکٹر امجد علی کا خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
امریکا تیاریوں کے باوجود ایران پر حملہ کرنے سے قاصر کیوں؟ ایران سے جاری مذاکرات کے باوجود امریکی جنگی تیاریاں عروج پر کیوں؟ ایران اپنے نیوکلیئر و میزائل پروگرام سے پیچھے ہٹ جائیگا؟ امریکا ایران جنگی صورتحال میں روس اور چین کی پوزیشن؟ امریکا اور اسرائیل میں کون کِس کے زیر اثر ہے؟ کیا امریکا ایران کے معاملے میں پھنس کر فیس سیوونگ چاہتا ہے یا کوئی فاش غلطی کر سکتا ہے؟ آئندہ امریکا ایران جنگ کا دائرہ کیا ہوگا؟ امریکی حملے کی صورت میں ایران کا سب سے پہلا اور بڑا ہدف کیا ہوگا؟ و دیگر متعلقہ اہم سوالات کے جوابات جاننے کیلئے ماہر عالمی امور ڈاکٹر امجد علی کا خصوصی ویڈیو انٹرویو ضرور سنیئے اور احباب و اقارب کیساتھ شیئر بھی کیجیئے۔ متعلقہ فائیلیںماہر عالمی امور و محقق لیکچرار ڈاکٹر امجد علی کا تعلق پاکستان کی معروف مادر علمی جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے ہے۔ گذشتہ تیرہ سالوں سے بحیثیت لیکچرار جامعہ کراچی میں تدریسی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں، وہ معروف تعلیمی ادارے شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کراچی میں بھی تحقیقی و تدریسی فرائض سرانجام دے رہے ہیں، اس سے قبل وہ شاہ لطیف یونیورسٹی خیرپور میں بھی دو سال تدریسی فرائض سرانجام دے چکے ہیں، وہ سندھ یونیورسٹی سے گولڈ میڈل بھی حاصل کر چکے ہیں، بین الاقوامی تعلقات سمیت ملکی و عالمی امور و ایشوز پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے ڈاکٹر امجد علی کیساتھ امریکا ایران تنازعہ، جنگی صورتحال و دیگر متعلقہ موضوعات کے حوالے سے جامعہ کراچی میں انکے دفتر میں مختصر نشست کی، اس موقع پر انکا خصوصی ویڈیو انٹرویو لیا، جو پیش خدمت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈاکٹر امجد علی امریکا ایران عالمی امور
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔