پشاور، اندھے قتل کی لرزہ خیز واردات، نوجوان ٹک ٹاکر کا قاتل بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ مقتول احمد اشتیاق کو اس کی بیوی مسماۃ (ح) دختر بشیر احمد سکنہ نوشہرہ نے اپنے آشنا نعیم افغانی اور مقتول کی سالی مسماۃ (ج) دختر بشیر احمد سکنہ نوشہرہ کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کے تحت اجرتی قاتلوں کے ذریعے فائرنگ کر کے قتل کروایا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کے علاقہ حیات آباد میں محبت کی شادی کرنے والا نجی یونیورسٹی کے فرسٹ سمسٹر کے طابعلم کا قاتل اسکی اپنی محبوبہ نکلی، جس نے آشنا کی مدد سے شوہر کو قتل کروایا اور فرار ہوگئی تاھم دو ماہ بعد اجرتی قاتل کو گرفتار کرلیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے دو ماہ قبل حیات آباد فیز 5 میں PGH ہسپتال کے قریب موٹر کار پر فائرنگ کرکے اندھا قتل کے واقعے کو ٹریس کر لیا۔ پولیس نے جدید سائنسی خطوط پر جامع تفتیش کے دوران قتل میں ملوث اجرتی قاتل محمد نعمان ولد واحد شاہ اور سہولت کار عبداللہ ولد ظہور کو گرفتار کر لیا ہے۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ مقتول احمد اشتیاق کو اس کی بیوی مسماۃ (ح) دختر بشیر احمد سکنہ نوشہرہ نے اپنے آشنا نعیم افغانی اور مقتول کی سالی مسماۃ (ج) دختر بشیر احمد سکنہ نوشہرہ کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کے تحت اجرتی قاتلوں کے ذریعے فائرنگ کر کے قتل کروایا۔
واقعہ کے حوالے سے مقتول کے بھائی شہریار احمد ولد اشتیاق احمد کی مدعیت میں مورخہ 09.
قتل میں ملوث مقتول کی بیوی، اس کی سالی اور اجرتی قاتلان کاشف اور راج محمد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جبکہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔ واضح رہے کہ گرفتار اجرتی قاتلان اس سے قبل مورخہ 08.12.2025 کو 10 لاکھ روپے اجرت پر تھانہ فقیر آباد کی حدود عامر ایوب کالونی میں فائرنگ کر کے شینا خان ولد غلجے کے قتل میں بھی ملوث رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تفتیش کے دوران نعیم افغانی اجرتی قاتل فائرنگ کر مقتول کی کی بیوی
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔