واشنگٹن میں امریکی انسٹی ٹیوٹ فار پیس کے باہر ٹرمپ کے خلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی دارالحکومت میں United States Institute of Peace کے باہر امریکن شہریوں نے غزہ کے لوگوں سے اظہار یکجہتی اور امریکی صدر Donald Trump کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرہ اُس موقع پر ہوا جب ادارے کے بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس جاری تھا جس کی صدارت خود ٹرمپ کر رہے تھے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں مختلف ممالک کے سفارت کار اور وفود شریک تھے، بیرونی سڑکوں پر موجود مظاہرین نے بین الاقوامی نمائندوں کی آمد کے دوران مسلسل احتجاج جاری رکھا۔ مظاہرین نے خاص طور پر Israel کی شرکت اور فلسطینی نمائندگی نہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ خطے کے تنازع کے حل کے لیے تمام فریقوں کو برابر نمائندگی دی جائے۔
مظاہرے کے دوران پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی، احتجاج میں شریک لوگوں نے ٹرمپ کا پتلا نذرِ آتش کیا اور Gaza برائے فروخت نہیں اور فلسطین کو آزاد کرو جیسے نعرے لگاتےہوئے کہا کہ ان کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ جب تک فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت پر سنجیدہ بات نہیں ہوتی، اس وقت تک کوئی بھی امن منصوبہ عملی یا قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔
احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی شمولیت کے ساتھ فلسطینی قیادت کو نظر انداز کرنا کسی بھی سفارتی عمل کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے، یکطرفہ فیصلے نہ صرف زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ادھر حکام نے مظاہرے کو پُرامن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی اقدامات محض احتیاطی تدابیر کے طور پر کیے گئے تھے، اجلاس کے منتظمین کی جانب سے فوری ردعمل جاری نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ کانفرنس شیڈول کے مطابق جاری رہی،پانچ روزہ اجلاس میں عالمی امن، تنازعات کے حل اور سفارتی تعاون جیسے موضوعات زیر بحث ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔