data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکی دارالحکومت میں United States Institute of Peace کے باہر امریکن شہریوں نے غزہ کے لوگوں سے اظہار یکجہتی اور امریکی صدر Donald Trump کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرہ اُس موقع پر ہوا جب ادارے کے بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس جاری تھا جس کی صدارت خود ٹرمپ کر رہے تھے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں مختلف ممالک کے سفارت کار اور وفود شریک تھے، بیرونی سڑکوں پر موجود مظاہرین نے بین الاقوامی نمائندوں کی آمد کے دوران مسلسل احتجاج جاری رکھا۔ مظاہرین نے خاص طور پر Israel کی شرکت اور فلسطینی نمائندگی نہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ خطے کے تنازع کے حل کے لیے تمام فریقوں کو برابر نمائندگی دی جائے۔

مظاہرے کے دوران پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی، احتجاج میں شریک لوگوں نے ٹرمپ کا پتلا نذرِ آتش کیا اور  Gaza برائے فروخت نہیں  اور فلسطین کو آزاد کرو  جیسے نعرے لگاتےہوئے  کہا کہ ان کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ جب تک فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت پر سنجیدہ بات نہیں ہوتی، اس وقت تک کوئی بھی امن منصوبہ عملی یا قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔

احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی شمولیت کے ساتھ فلسطینی قیادت کو نظر انداز کرنا کسی بھی سفارتی عمل کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے، یکطرفہ فیصلے نہ صرف زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ادھر حکام نے مظاہرے کو پُرامن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی اقدامات محض احتیاطی تدابیر کے طور پر کیے گئے تھے، اجلاس کے منتظمین کی جانب سے فوری ردعمل جاری نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ کانفرنس شیڈول کے مطابق جاری رہی،پانچ روزہ اجلاس میں عالمی امن، تنازعات کے حل اور سفارتی تعاون جیسے موضوعات زیر بحث ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع

اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔

لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔

دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری