مشعال ملک کا کشمیر کیلیے بھی امن بورڈ کے قیام کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک : کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے غزہ کی طرز پر کشمیر کیلیے بھی امن بورڈ کے قیام کا مطالبہ کر دیا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن مشعال ملک نے کشمیر کے حوالے سے ایک سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کشمیری عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
مشعال ملک نے کہا کہ بھارت جبر کے ذریعے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے مطالبے کو دبا نہیں سکتا، بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے۔
لاہور:ٹرانسپورٹرز کو 15 دن کی مہلت، لین ڈسپلن یقینی بنانے کی ہدایت جاری
اس سے قبل کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر فرنٹ لائن پر لانے کا آئیڈیل وقت ہے مطالبہ کرتی ہوں گرفتار حریت رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے۔
مشعال ملک نے کہا تھا کہ مودی کا ٹریک ریکارڈ اچھا نہیں ہے، ووٹ کیلیے مودی معاملات کو ایٹمی جنگ کی طرف لے جانے سے گریز نہیں کرتا لیکن اس کو بدترین شکست ہوئی اب وہ کسی کا سامنا نہیں کر پا رہا۔
اوپن مارکیٹ میں آٹے کی قلت،شہری پریشان
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کا مطلب ہے مسئلہ کشمیر بھارت کا اندورنی نہیں کثیر الجہتی مسئلہ ہے، مذاکرات کیلیے امریکا اور چین کا بہت اہم رول ہو سکتا ہے۔
’شملہ معاہدے پر نظر ثانی کر کے اس کو مسترد کیا جائے اور مطالبہ کرتی ہوں گرفتار حریت رہنماوں کو فوری رہا کیا جائے۔‘
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مشعال ملک نے
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔