گیس سلنڈر دھماکے کے ذمہ داروں کو سخت سزا دیجائے، جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اپنے ایک بیان میں صوبائی جنرل سیکریٹری محمد یوسف نے کہا کہ یہ ہماری بدقسمتی اور حکمرانوں کی بدنیتی ہے کہ جو صوبہ کل ملکی پیدوارکی 72 فیصد گیس پیدا کرتا ہو، اس کے عوام کراچی تا کشمور محروم تو کہیں بدترین لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکرٹری محمد یوسف نے سولجرز بازار کراچی میں گیس سلنڈر دھماکے کے نتیجے میں عمارت منہدم ہونے سے 16 سے زائد قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ واقعے کی غیرجاندارانہ و فوری تحقیقات کرکے اصل حقائق سے قوم کو آگاہ کیا جائے اور جو بھی اس کا ذمہ دار ہو، اس کو سخت سزا دی جائے۔ اپنے ایک بیان میں محمد یوسف نے کہا کہ یہ ہماری بدقسمتی اور حکمرانوں کی بدنیتی ہے کہ جو صوبہ کل ملکی پیدوارکی 72 فیصد گیس پیدا کرتا ہو، اس کے عوام کراچی تا کشمور محروم تو کہیں بدترین لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں۔
محمد یوسف نے کہا کہ ساری سہولیات و مراعات مٹھی بھر اشرافیہ کیلئے ہیں، زندگی کی بنیادی ضرورت کے باعث شہری اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر گھروں میں گیس سلنڈر رکھنے پر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے آئے روز جان لیوا حادثات کا سبب بن رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ، اسکول وین سے لیکر گھریلو استعمال میں آنے والے غیر معیاری گیس سلینڈر بھی ایسے افسوسناک حادثات کا سبب بن رہے ہیں، جس کا سدباب بھی ناگذیر ہے۔ انہوں متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار مرحومین کی مغفرت درجات بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محمد یوسف نے نے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔