Express News:
2026-07-23@23:27:48 GMT

بنگلہ دیش،نئی حکومت

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

اگست 2024 میں طلباء کے لائے ہوئے مون سون انقلاب کے بعد عبوری حکومت بنی جس نے 12  فروری 2026کو عام انتخابات کروا دیے۔ ملک کے چیف ایڈوائزر جناب محمد یونس نے کہا کہ نیا بنگلہ دیش وجود میں آ گیا ہے۔ جناب محمد یونس کو انقلابیوں نے حکومت سنبھالنے کی دعوت دی تھی،انھوں نے بہت اچھا کردار نبھایا اور کسی بھی سکینڈل کی زد میں آئے بغیر عام انتخابات کروا دئے۔بنگلہ دیش میں یہ 13 ویں انتخابات تھے۔

انتخابات میں ٹرن آؤٹ 60 فیصد رہا جو بہت اچھا کہا جا سکتا ہے لیکن بنگلہ دیشی روایتی ٹرن آؤٹ سے قدرے کم ہے۔نتائج کے مطابق بی این پی یعنی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔بی این پی نے 300کے ایوان میں 212نشستیں جیتیں جب کہ اس کے مدِ مقابل جماعتِ اسلامی 77 نشستیں لینے میں کامیاب ہوئی۔بی این پی کو دو تہائی اکثریت مل جانے سے اسے قانون سازی میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہوگی۔

البتہ بی این پی نے ایسے اشارے دیے ہیں کہ وہ کوشش کرے گی کہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے۔یہ ایک انتہائی مثبت سوچ ہے جس پر عملدرآمد سے ملی یکجہتی کی راہیں کھلیں گی۔بنگلہ دیش خوش قسمت ہے۔یہاں کوئی صوبہ نہیں،سب ایک زبان بولتے اور ایک کلچر کے پروردہ ہیں۔

بنگلہ دیش انتخابات میں ماضی کی بڑی اور مضبوط جماعت عوامی لیگ پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی تھی۔کیا ہی اچھا ہوتا گر عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے دیا جاتا۔نتائج کچھ مختلف نہیں ہونے تھے کیونکہ شیخ حسینہ نے آخری دور میں بے حد ظلم و زیادتی کی،بہت مظالم ڈھائے اور بہت Witch huntingکی جس کی وجہ سے انتخابی ہار عوامی لیگ کے لیے نوشتۂ دیوار تھی۔ہاں عوامی لیگ کو چند نشستیں ضرور مل جانی تھیں لیکن اس سے انتخابات کی Credibilityبہت بڑھ جانی تھی اور پورے ملک میں کہیں بھی محرومی کا احساس نہ ہوتا۔بہر حال انتخابات ہو گئے ہیں اور 17فروری کو جناب طارق رحمٰن نے وزیرِ اعظم کا حلف اٹھا لیا ہے۔

طارق رحمٰن 17سال ملک سے باہر یو کے میں رہے۔ باہر جانے سے پہلے ان کی شہرت گدلائی ہوئی تھی۔ان کی غیر موجودگی میں ان پر مقدمہ چلا اور سزا ہوئی۔ گذشتہ برس جناب محمد یونس کی عبوری حکومت نے ان کے خلاف تمام مقدمات واپس لے لیے اور انھیں بنگلہ دیش واپس آنے اور اپنے والد اور والدہ کی سیاسی پارٹی کو لیڈ کرنے کا موقع فراہم کیا۔جلا وطنی سے واپسی پر وہ بہت بدلے ہوئے نظر آئے۔

ان کی شخصیت میں ایک ٹھہراؤ عیاںہے۔جناب طارق رحمٰن کو حکومت کرنے کا کوئی تجربہ نہیں۔اس کے ساتھ ان کو سیاسی پارٹی چلانے کا بھی تجربہ نہیں لیکن وہ بنگلہ دیش کے آرمی چیف و صدر اور بنگلہ دیش کی سابقہ مرحومہ وزیرِ اعظم کے بیٹے ہیں۔ انھوں نے گھر میں بہت سیاست اور اقتدار دیکھا ہے،اس لیے اگر وہ ایک بہترین حکومتی سیاسی ٹیم اکٹھی کرلیں تو بہت کامیابی سمیٹیں گے۔

بی این پی کی مرکزی اپوزیشن پارٹی جماعتِ اسلامی نے کل ملا کر 77نشستیں جیتی ہیں۔گذشتہ اسمبلی میں محض چند نشستوں والی اس سیاسی پارٹی نے بظاہر بہت اچھی انتخابی کارکردگی نہیں دکھائی لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس پارٹی نے پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ نشستیں جیتی ہیں۔یہ بات بھی سامنے رہنی چاہیئے کہ ڈھاکہ شہر میں بی این پی نے اکاون فیصد جب کہ جماعت اسلامی نے 49فیصد ووٹ حاصل کیے یوں ڈھاکہ شہر میں دونوں جماعتوں کی سپورٹ قریب قریب برابر ہے۔

جماعتِ اسلامی نے پورے ملک میں 44فیصد ووٹ لیے ہیں جو بری کارکردگی نہیں لیکن یہ کارکردگی ایک ایسی فضا میں ہو رہی ہے جب عوامی لیگ میدان میں نہیں۔نوجوان اور طلباء کی بہت بڑی تعداد بھی جماعتِ اسلامی کی طرف موافقانہ نظر سے دیکھ رہی تھی۔ جماعتِ اسلامی کو جتنا بہتر ماحول اس الیکشن میں ملا،وہ شاید کبھی دوبارہ نہ مل سکے۔جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش اگر جیت کر حکومت بنا لیتی تو انڈیا اور عوامی لیگ کو بہت مشکلات کا سامنا ہوتا۔

جناب طارق رحمٰن نے بنگلہ دیش واپسی کے بعد سے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھانے تک شیخ حسینہ یا عوامی لیگ کے خلاف کوئی منفی بیان نہیں دیا۔عوامی لیگ کو اندیشہ تھا کہ اگر جماعتِ اسلامی اقتدار میں آ گئی تو عوامی لیگ اور شیخ حسینہ کے لیے بہت برا ہوگا۔ایک خیال یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عوامی لیگ کے کارکن گھروں میں بیٹھے رہنے کے بجائے ووٹ کاسٹ کرنے میں بھرپور انداز میں شریک ہوئے اور مصلحت کے تحت بی این پی کو ووٹ ڈالا تاکہ بی این پی جو کہ بظاہر ایک معتدل لبرل جماعت ہے،وہ جیتے۔اس خیال میں بہت وزن ہے اور شاید یہی ہوا ہو۔

جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کی قیادت نے بہتMatureاندازِ سیاست اپنایا ہے۔جماعت قیادت نے نتائج تسلیم کیے، جناب طارق رحمٰن کو مبارک باد دی،پھول اور قومی معاملات میں اپنا تعاون پیش کیا۔جماعت نے الیکشن قواعد کے مطابق کوئی 30 نشستوں کے انتخابی نتائج کو چیلنج کیا ہے۔یہ ان کا جمہوری حق ہے،مخالفت برائے مخالفت ہرگز نہیں۔جناب طارق رحمٰن کی بی این پی کو بنگلہ دیش اسٹیبلشمنٹ کی حمایت بھی حاصل تھی۔ انتخابات جیتنے کے بعد ان کو انڈیا،پاکستان ، کئی دوسرے ممالک اور ان کی قیادت کی طرف سے مبارک باد دی گئی ہے۔جناب شہباز شریف نے تو پاکستان دورے کی دعوت بھی دے ڈالی۔ بی این پی کی طرف سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ جناب طارق رحمٰن کی حکومت ریجنلConnectivityبڑھانے اور خطے میں امن و آشتی کے ماحول کو پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دے گی۔اس مقصد کے حصول کے لیے ان کے پاس سارک کا پلیٹ فارم موجود ہے جو اس وقت نان فنکشنل پڑا ہے۔انڈیا چاہتا ہے کہ سارک کا کوئی بھی سربراہی اجلاس پاکستان میں نہ ہو۔یوں ایک ڈیڈ لاک کی کیفیت ہے۔بنگلہ دیش کی حکومت اس سلسلے میں فعال کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ انڈیا چاہے گا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ اس کے تعلقات میں موجود سرد مہری ختم ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انتخابات میں عوامی لیگ کو بنگلہ دیش بی این پی

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف